نئی دہلی: برسراقتدار بھارتی انتہاپسند سیاسی جماعت بی جے پی بنگال سمیت تامل ناڈو ، پڈوچیری اور کیرالہ میں انتخابات جیت کر پورے بھارت پر قبضہ مکمل کرلیا، کانگرس کی قیادت میں سیاسی اتحادی کیرالہ میں جیت گیا، سابق وزرااعلی ممتا بینر جی ، اسٹالن کو عبرتناک شکست، آسام سے گوگوئی بھی ہار گئے ۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے مغربی بنگال اور آسام سمیت 5 ریاستوں کے انتخابی نتائج کے بعد نئی دہلی میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے مرکزی دفتر میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے ان نتائج کو جمہوریت کی طاقت اور عوامی اعتماد کا مظہر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مغربی بنگال میں تقریباً 93 فیصد ووٹنگ اپنے آپ میں ایک تاریخی واقعہ ہے، جبکہ آسام، تمل ناڈو، پڈوچیری اور کیرالہ میں بھی ووٹنگ کے نئے ریکارڈ قائم ہوئے، خاص طور پر خواتین کی بڑی شرکت نے جمہوریت کی ایک روشن تصویر پیش کی ہے۔
نریندر مودی نے اپنی تقریر میں گنگا ندی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ برس بہار انتخابات کے نتائج کے بعد انہوں نے کہا تھا کہ گنگا جی بہار سے بہتے ہوئے گنگا ساگر (مغربی بنگال) تک جاتی ہے اور اب مغربی بنگال میں جیت کے ساتھ گنگوتری (اتراکھنڈ) سے لے کر گنگا ساگر تک کمل کھل چکا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اتراکھنڈ، اتر پردیش، بہار اور اب مغربی بنگال میں بی جے پی یا این ڈی اے کی حکومت قائم ہے، جو گنگا کے کنارے آباد ریاستوں میں پارٹی کی مضبوط موجودگی کو ظاہر کرتی ہے۔
وزیر اعظم نے آسام کے نتائج کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں بی جے پی اور این ڈی اے اتحاد نے مسلسل تیسری بار کامیابی حاصل کی ہے، جو ریاست کی تاریخ میں ایک بڑی کامیابی ہے۔ انہوں نے خاص طور پر چائے باغان کے علاقوں میں ملنے والے غیر معمولی تعاون کا ذکر کیا اور کہا کہ یہ عوام کے اعتماد کی علامت ہے۔
پڈوچیری کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ 2021 میں پیش کیے گئے وژن پر عوام نے اعتماد ظاہر کیا اور گزشتہ 5 برسوں میں این ڈی اے حکومت نے پوری ایمانداری کے ساتھ اس وژن کو عملی شکل دینے کی کوشش کی۔ انہوں نے نوجوانوں اور ماہی گیروں کو یقین دلایا کہ حکومت ان کے بہتر مستقبل کے لیے مسلسل کام کرتی رہے گی۔
کانگرس عوام کے اعتماد پر پورا اترے گی، جے رام رمیش
کانگریس کے زیرقیادت اتحاد یو ڈی ایف، کیرالہ اسمبلی انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرنے کے بعد، کانگریس پارٹی نے پیر کو اعلان کیا کہ وہ ریاست کے لوگوں کے اعتماد پر پورا اترے گی۔
پارٹی کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے کہا کہ دوسری ریاستوں کے نتائج پارٹی کے لیے مایوس کن ہیں، لیکن وہ مایوس نہیں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ انتخابی نتائج کا گہرائی سے تجزیہ کیا جائے گا۔اسی طرح کے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے، کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے ریاست کے لوگوں سے کانگریس کی زیر قیادت یو ڈی ایف پر اعتماد کرنے پر اظہار تشکر کیا۔
بھوانی پور میں ممتا بنرجی کو بڑی شکست،
مغربی بنگال کی بھوانی پور سیٹ پر سب سے بڑا ہنگامہ دیکھنے میں آیا۔ اس سیٹ سے وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ بی جے پی کے سویندو ادھیکاری نے انہیں 15000 سے زیادہ ووٹوں سے شکست دی۔ بھوانی پور گنتی مرکز کے باہر آج اس وقت کشیدگی پیدا ہوگئی جب ممتا بنرجی پہنچیں۔ انہوں نے بی جے پی اور الیکشن کمیشن پر ملی بھگت کا الزام لگایا۔ اس سیٹ پر ممتا اور سویندو کے درمیان کئی راؤنڈ تک سخت مقابلہ دیکھنے میں آیا۔
ڈی ایم کے سربراہ ایم کے اسٹالن ہار گئے، گورو گوگوئی کو بھی شکست کا سامنا
تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم کے سربراہ ایم کے اسٹالن کولاتھور اسمبلی سیٹ ہار گئے ہیں۔ اس حلقے میں کل 182,882 ووٹ ڈالے گئے جب کہ 20 راؤنڈز کی گنتی کے بعد کل 177,756 ووٹوں کی گنتی ہوئی۔ سٹالن تقریباً 9000 ووٹوں کے فرق سے الیکشن ہار گئے۔
2026 کے آسام اسمبلی انتخابات میں کانگریس رہنما گورو گوگوئی کو ہار کا سامنا کرنا پڑا۔ کانگریس امیدوار اور ریاستی صدر گورو گوگوئی اپنی سیٹ ہار گئے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے امیدوار ہتیندر ناتھ گوسوامی نے انہیں 23,000 ووٹوں کے فرق سے شکست دے کر مسلسل تیسری کامیابی حاصل کی۔

