تحریر:آصف چودھری
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

‘ہارڈ ایریاز’ کیا ہیں؟
ملک میں ‘ہارڈ ایریاز’ سے مراد وہ مخصوص علاقے ہیں جہاں بنیادی ڈھانچے کی کمی، دشوار گزار راستوں یا امن و امان کے خطرات کی وجہ سے رہنا اور کام کرنا انتہائی مشکل تصور کیا جاتا ہے۔ ان علاقوں میں تعینات افسران کو عام طور پر خصوصی الاؤنسز جیسے مراعات دی جاتی ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف کی پالیسی کے تحت پہلے نوجوان افسران (جیسے 48ویں کامن بیج) کو ان علاقوں میں بھیجا جاتا تھا تاکہ انہیں عوامی خدمات کی سختیوں کے لیے تیار کیا جا سکے۔
اس بار 49ویں کامن بیج کے افسران کو ہارڈ ایریا بھجوانا تھا لیکن اسلام آباد میں طاقتور بیوروکریسی کے دو افسران جو پنجاب میں بھی اہم سیٹوں پر تعینات رہے انہوں نے 49ویں کامن کی بجائے ان افسران کو نامزد کیا گیا ہے جو حال ہی میں صوبائی سروس سے ‘پولیس سروس آف پاکستان’ (PSP) میں شامل ہوئے ہیں اور ان کی ریٹائرمنٹ میں صرف 3 سے 5 سال باقی ہیں۔ تبادلے کی فہرست میں شامل 4 افسران اس وقت ‘مڈ کیریئر ٹریننگ کورس’ میں مصروف ہیں جو 5 جون کو مکمل ہوگا۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے مطابق درج ذیل بی ایس-18 افسران کے تبادلے کیے گئے ہیں:
بلوچستان کے لیے: عمران رزاق، طاہر مصطفیٰ، امتیاز احمد خان، نعیم شاہد اور جاوید احمد خان۔
خیبر پختونخوا کے لیے: ارشد زاہد، خالد محمود افضل، عرفان امیر، جلیل عمران خان اور تیمور خان۔آئی جی پنجاب عبدالکریم نے تصدیق کی ہے کہ ان کے محکمے کو نامزد افسران کی فہرست موصول ہو گئی ہے اور افسران نے ان تبادلوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب پولیس اس معاملے کو روٹیشن پالیسی کی روشنی میں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے ساتھ اٹھا رہی ہے۔ نامزد افسران کا دعویٰ ہے کہ 2020 کی روٹیشن پالیسی ان پر لاگو نہیں ہوتی کیونکہ وہ سی ایس ایس کے ذریعے اس بیج کا حصہ نہیں بنے۔ مزید برآں، کئی افسران طبی مسائل کی بنا پر ان علاقوں میں ذمہ داریاں نبھانے سے قاصر ہیں۔ دوسری جانب اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے سیکرٹری نبیل اعوان کا کہنا ہے کہ روٹیشن پالیسی فی الحال صوبوں کی درخواست پر معطل ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ پی ایس پی (PSP) میں شامل ہونے کے بعد یہ افسران ‘وفاقی ملازم’ کہلاتے ہیں اور پالیسی فیصلے کے تحت انہیں کہیں بھی منتقل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے ‘پسند و ناپسند’ کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ ایک سالہ عارضی انتظام ہے جس پر افسران کو ہر صورت عمل کرنا ہوگا۔

