اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت میں اس وقت فضا غیر یقینی اور سنسنی خیز ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی وفد کے درمیان ممکنہ ملاقات کے لیے تیاریاں تو مکمل ہیں، لیکن کیا یہ ملاقات ہو پائے گی؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب اگلے چند گھنٹوں میں پوری دنیا کا نقشہ بدل سکتا ہے۔
وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ جے ڈی وینس کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی وفد پاکستان پہنچے گا، لیکن تاحال ان کے جہاز کے اسلام آباد لینڈ کرنے کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ایگزیوس نے تین ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وینس منگل کی صبح امریکا سے روانہ ہوں گے۔
سفارتی حلقوں میں یہ چہ میگوئیاں جاری ہیں کہ شاید واشنگٹن تہران کی جانب سے کسی واضح اشارے کا منتظر ہے۔ذرائع نے سی این این کو بتایا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور اسلام آباد میں بدھ کے روز ہو گا۔
دوسری جانب تہران سے آنے والے بیانات میں ابھی تک لچک کے بجائے سختی نظر آ رہی ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں واضح کیا کہ:
"ایران ان مذاکرات کو قبول نہیں کرے گا جو ‘خطرات کے سائے’ میں ہوں۔ ڈونلڈ ٹرمپ ناکہ بندی اور جنگ بندی کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔”
قالیباف کا اشارہ آبنائے ہرمز میں حالیہ واقعے کی طرف ہے، جہاں امریکہ نے ایک ایرانی مال بردار بحری جہاز کو قبضے میں لے کر کشیدگی کو نئی بلندیوں پر پہنچا دیا ہے۔
بی بی سی اور عالمی خفیہ اداروں کی رپورٹس کے مطابق، تہران میں اس وقت اقتدار کی شدید اندرونی جنگ جاری ہے۔ کئی سینیئر رہنماؤں کی ہلاکت کے بعد، سخت گیر عناصر باقر قالیباف جیسی شخصیات پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ امریکا کے سامنے جھکنے کے بجائے جنگ کا انتخاب کریں۔ تاہم، ماہرین کا خیال ہے کہ عوامی سطح پر غصے کے اظہار کے باوجود، ایرانی وفد پسِ پردہ اسلام آباد سفر کی تیاری کر سکتا ہے۔
اسلام آباد میں وقت کی سوئیوں کے ساتھ ساتھ عالمی تناؤ بھی اپنے عروج پر پہنچ چکا ہے۔ جنگ بندی کی ڈیڈ لائن سر پر ہے اور پوری دنیا کی نظریں وفاقی دارالحکومت کے ‘ریڈ زون’ پر جمی ہیں، جہاں سفارت کاری اور جنگ کے درمیان ایک باریک لکیر کھچی ہوئی ہے۔
اگر اگلے چند گھنٹوں میں امریکی اور ایرانی وفود اسلام آباد میں آمنے سامنے نہ بیٹھے، تو 24 گھنٹے بعد مشرقِ وسطیٰ اور عالمی منڈیوں میں ایک ایسا طوفان آ سکتا ہے جسے روکنا کسی کے بس میں نہیں ہوگا۔ اسلام آباد اس وقت دنیا کی ‘سیاسی بساط’ کا سب سے اہم مہرہ بن چکا ہے۔

