تہران +اسلام آباد :ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ امریکا، اسرائیل جنگ کے خاتمے کے لیے ثالثوں کی کوششوں کے جواب میں ایران نے اپنا مسودہ تیار کر لیا ہے۔
بی بی سی کے مطابق یہ بیان خبر رساں ادارے روئٹرز کی اس رپورٹ کے بعد سامنے آیا ہے جس میں نام ظاہر نہ کرنے والے ذرائع کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ پاکستان اس تنازع کے خاتمے کے لیے نئے منصوبے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی ایرنا کے مطابق اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے ثالثوں کے ذریعے بھیجا گیا 15 نکاتی منصوبہ ’ہماری نظر میں کسی بھی طرح قابلِ قبول نہیں‘۔
انھوں نے مزید کہا کہ جنگ ختم کرنے کے لیے مذاکرات ’الٹی میٹمز اور جنگی جرائم کی دھمکیوں‘ کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتے۔ یہ بات انھوں نے ٹرمپ کی اس انتباہ کے تناظر میں کہی کہ اگر آبنائے ہرمز دوبارہ نہ کھولی گئی تو امریکا ایران کے شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنائے گا۔
ترجمان نے کہا کہ ایران نے اس کے بجائے اپنے مفادات اور ضروریات کی بنیاد پر مطالبات کا ایک سیٹ تیار کیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’ہم شروع سے جانتے تھے کہ ہمیں کیا چاہیے اور کون سی سرخ لکیریں ہم پار نہیں کریں گے۔ ہماری پوزیشن آج بھی واضح ہے۔ جیسے ہی یہ بات چیت شروع ہوئی، ہمارے جوابات تیار تھے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ایران نے اپنے جوابات مکمل طور پر تیار کر لیے ہیں اور ’مناسب وقت پر تفصیلات کا اعلان کیا جائے گا‘۔.
اسلام آباد امن معاہدہ: امریکا کا 15 نکاتی منصوبہ مسترد، تہران نے اپنا ’ریڈ لائن‘ ڈرافٹ تیار کر لیا

