اسلام آباد : وفاقی وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک اور وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے ایک ہنگامی مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے قوم کو عالمی معاشی بحران اور تیل کی نئی قیمتوں سے آگاہ کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ وزیراعظم کی زیرِ صدارت ہونے والے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیا گیا جس میں تمام وزرائے اعلیٰ اور عسکری قیادت نے بھی شرکت کی۔وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے بتایا کہ خلیج میں جاری جنگ نے عالمی منڈیوں میں تیل کی ترسیل کو بری طرح متاثر کیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ڈیزل کی قیمت عالمی سطح پر 250 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے۔
مصنوعات,نئی قیمت (فی لیٹر)
پیٹرول,458 روپے 40 پیسے
ڈیزل,520 روپے 35 پیسے
پاکستان اپنی ضرورت کا 90 فیصد تیل دبئی اور عمان سے حاصل کرتا ہے جہاں قیمتیں ریکارڈ سطح پر پہنچ چکی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک کو اتحاد کی ضرورت ہے، حکومت نے ترقیاتی فنڈز اور کابینہ کی تنخواہوں میں کٹوتی کر کے اب تک 129 ارب روپے عوام پر خرچ کیے ہیں، مگر اب عالمی معاہدوں کی وجہ سے قیمتیں بڑھانا ناگزیر ہو گیا ہے۔
وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے واضح کیا کہ حکومت اب سب کو سبسڈی دینے کے بجائے صرف "مخصوص اور حقدار” طبقے کو ریلیف فراہم کرے گی۔
سبسڈی کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
موٹر سائیکل سوار: پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر رعایت۔ (ماہانہ حد: 20 لیٹر، مدت: 3 ماہ)
چھوٹے کسان: فصل کی کٹائی کے لیے 1500 روپے یکمشت خصوصی امداد۔
پبلک ٹرانسپورٹ: انٹر سٹی مسافر گاڑیوں اور مال بردار گاڑیوں کے لیے 100 روپے فی لیٹر سبسڈی۔
ماہانہ نقد ریلیف:
چھوٹے ٹرک: 70 ہزار روپے ماہانہ۔
بڑے ٹرک: 80 ہزار روپے ماہانہ۔
مسافر بسیں: 1 لاکھ روپے ماہانہ۔
ریلوے: لوئر کلاس کے مسافروں کے لیے کرایوں میں خصوصی رعایت۔
بجلی اور ایندھن کی بچت: "انرجی ایمرجنسی”
حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ اب ملک بھر میں مارکیٹیں اور کاروباری مراکز صرف دن کے اوقات میں کھلیں گے تاکہ بجلی اور ایندھن کی بچت کی جا سکے۔ ان اوقات کار کا حتمی فیصلہ اگلے ہفتے صوبائی حکومتوں کی مشاورت سے کیا جائے گا۔

