واشنگٹن :امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کہا ہے کہ اگر ایران امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ کسی معاہدے پر رضا مند نہ ہوا تو امریکی فوج ’مزید شدت سے‘ کارروائیاں جاری رکھے گی۔
پینٹاگون میں پریس کانفرنس کے دوران امریکی وزیر دفاع نے کہا کہ ایران میں حکومت تبدیل ہو چکی ہے اور ملک کی نئی قیادت کو چاہیے کہ وہ ’پچھلی قیادت سے زیادہ سمجھ دار‘ ہو۔
پیٹ ہیگسیتھ کے بعد امریکہ کے جوائنٹ چیفس آف سٹاف ڈین کین نے بھی بریفنگ دی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی نیوی نے 150 سے زیادہ بحری جہازوں کو تباہ کر دیا ہے اور امریکی بی 52 بمبار طیاروں کے مشن بھی شروع ہو چکے ہیں۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کہا ہے کہ حملے کرنے کے لیے امریکہ کی طاقت بڑھ رہی ہے جبکہ ایران کی کم ہو رہی ہے اور ’صدر ٹرمپ وہ سب کچھ کر رہے ہیں جو کرنے کی کسی دوسرے صدر میں ہمت نہیں تھی۔‘
پینٹاگون میں پریس کانفرنس کے دوران امریکی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ گذشتہ 24 گھنٹوں میں ایران کی جانب سے داغے جانے والے میزائلوں کی تعداد سب سے کم رہی۔
انھوں نے کہا کہ ’ایرانی فوج کا مورال ختم ہو رہا ہے جس کی وجہ سے فوجی بھاگ رہے ہیں اور عسکری قیادت میں مایوسی پائی جاتی ہے۔‘
امریکی وزیر دفاع نے بتایا کہ ہفتے کے آخر میں وہ ان فوجیوں سے ملے جو عسکری کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔
پیٹ ہیگسیتھ کے مطابق امریکی فوج حوصلے میں ہے، اس کی اپنے مشن پر مکمل توجہ ہے اور وہ کام کو ’جلد‘ ختم کرنا چاہتی ہے۔
"ایران کا مورال ختم، 150 بحری جہاز تباہ!”: امریکی وزیرِ دفاع کا دعویٰ، ٹرمپ نے وہ کر دکھایا جو کوئی دوسرا صدر نہ کر سکا

