تحریر:اسدمرزا
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
کبھی کبھی ایک فیصلہ پورے نظام کی پرتیں کھول دیتا ہے اور کبھی ایک شخصیت پورے کھیل کا رخ بدل دیتی ہے۔ آزاد جموں و کشمیر پولیس میں حالیہ ہلچل بھی کچھ ایسی ہی کہانی سنا رہی ہے، جہاں بظاہر یہ ایک انتظامی تنازع دکھائی دیتا ہے، مگر حقیقت میں یہ اختیار، مفاد اور اصلاح کے درمیان کھینچی گئی ایک واضح لکیر ہے۔ آئی جی آزاد کشمیر کیپٹن (ر) لیاقت ملک نے جیسے ہی ذمہ داریاں سنبھالیں، ایک ساکت نظام میں حرکت پیدا ہو گئی۔ وہ نظام جو برسوں سے روایتی سستی، اندرونی گروپنگ اور مفادات کے گرد گھوم رہا تھا، اچانک خود کو ایک نئے دباؤ میں محسوس کرنے لگا۔ یہی وہ لمحہ تھا جب کچھ سینئر افسران نے احتجاج کا راستہ اختیار کیا،، کام چھوڑ دیا، اور صرف یہی نہیں بلکہ جونیئر افسران کو بھی اس احتجاج میں شامل کرنے کے لیے دباؤ ڈالنا شروع کر دیا۔ کیا یہ احتجاج واقعی کسی اصولی مؤقف پر تھا یا پھر ایک نئے نظام کی مزاحمت ؟ کیونکہ دوسری جانب جو تصویر سامنے آتی ہے، وہ ایک مختلف کہانی سناتی ہے۔ کیپٹن (ر) لیاقت ملک نے عید کے خر مسرت موقع پر نہ صرف وزیر اعظم سے پولیس ویلفیئر اور شہداء کے خاندانوں کے لیے بھاری فنڈز جاری کروائے، بلکہ پولیس رولز میں اصلاحات اور ماتحت افسران کی ترقیوں کے لیے ایک واضح اور عملی ڈھانچہ بھی ترتیب دیا۔ یہ وہ اقدامات ہیں جن کا مطالبہ برسوں سے کیا جا رہا تھا، مگر عملدرآمد ہمیشہ فائلوں میں دب کر رہ گیا۔



