اسلام آباد / انقرہ : مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اور بدلتی ہوئی عالمی صورتحال کے درمیان ایک ایسی خبر سامنے آئی ہے جس نے عالمی طاقتوں کے ایوانوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ ترکی کے بااثر اور حکومت نواز اخبار ’ترکیہ‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق، اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ اجلاس نے پاکستان، ترکی، سعودی عرب اور مصر کے درمیان ایک نئے ’دفاعی اتحاد‘ کی راہ ہموار کر دی ہے۔
’فیصلے اب ہم خود کریں گے‘
31 مارچ کی اس رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اسلام آباد میں چاروں ممالک کے نمائندوں کے درمیان ہونے والی بات چیت کا محور صرف ایران کی جنگ نہیں تھی، بلکہ ایک مشترکہ عسکری ہم آہنگی پیدا کرنا تھا۔
اسٹریٹجک تبدیلی: رپورٹ میں ایک ترک اہلکار کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ امریکہ اور یورپ کی پالیسیاں صرف اسرائیل کے تحفظ کے گرد گھومتی ہیں، جو خطے کے استحکام کے لیے خطرہ بن چکی ہیں۔ اب وقت آگئی ہے کہ اسلامی دنیا اپنی سکیورٹی کے نئے تصورات خود وضع کرے۔
اگلا پڑاؤ ترکی: اسلام آباد اجلاس میں کئی اہم اصولی فیصلے کیے گئے ہیں اور اب اس سلسلے کا اگلا اہم اجلاس ترکی میں منعقد ہوگا۔
اسرائیلی میڈیا، بالخصوص ’یروشلم پوسٹ‘ نے اس ممکنہ اتحاد کو اسرائیل کے لیے ایک بڑا خطرہ قرار دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کے کمزور ہونے کے بعد ترکی علاقائی قیادت کے لیے سب سے مضبوط امیدوار بن کر ابھرا ہے، اور پاکستان کے ساتھ مل کر سعودی عرب اور مصر کو ایک پلیٹ فارم پر لانا اسرائیل کے لیے کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں ہے۔
ترک میڈیا میں عرصے سے یہ خیال پیش کیا جاتا رہا ہے کہ مسلم ممالک کو اپنا ایک ’نیٹو‘ طرز کا اتحاد بنانا چاہیے تاکہ بیرونی مداخلت کے بجائے علاقائی مسائل کو مقامی سطح پر حل کیا جا سکے۔ تجزیہ کار احمت خان کا کہنا ہے کہ اس اتحاد کی تشکیل سے یہ واضح پیغام جائے گا کہ اب اسلامی دنیا کے فیصلے واشنگٹن یا برسلز کے بجائے انقرہ، اسلام آباد اور ریاض میں ہوں گے۔ تاہم بی بی سی کا کہنا ہے کہ ترکئے اخبار میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مصنف یلماز بلگن اپنے سخت گیر قوم پرست موقف اور کبھی کبھار غیر مصدقہ معلومات کے لیے جانے جاتے ہیں۔ یہ ایک ‘سفارتی بریک تھرو’ تو ہو سکتا ہے، لیکن اس کے باقاعدہ ‘دفاعی معاہدے’ کی شکل اختیار کرنے میں ابھی کئی پیچیدہ مراحل باقی ہیں۔
اسلامی دنیا کا ’نیٹو‘؟ پاکستان، ترکی، سعودی عرب اور مصر کے درمیان بڑے دفاعی اتحاد کی بازگشت؛ اسرائیل میں کھلبلی

