تل ایبب :مقبوضہ فلسطین سے موصول ہونے والی تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اسرائیلی پارلیمنٹ کنیسٹ نے ایک نہایت متنازع اور سخت گیر قانون منظور کر لیا ہے، جس کے تحت فلسطینی قیدیوں کے لیے سزائے موت کی راہ ہموار کر دی گئی ہے۔
یہ قانون سازی اسرائیل کی انتہائی دائیں بازو کی حکومت کی جانب سے سات اکتوبر کے دہشت گردانہ حملوں کے ردعمل کے طور پر متعارف کرائی گئی تھی۔ ناقدین کے مطابق اس قانون کا بظاہر نشانہ فلسطینی ہیں۔
ایوان کے اندر دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے وزراء اور خاص طور پر انتہا پسند وزیر اتمار بن گویر سمیت دیگر ارکان نے کھلے عام خوشی کا اظہار کیا۔
اطلاعات ہیں کہ بعض وزراء نے ایوان کے اندر ہی شراب کی بوتلیں کھول کر اس فیصلے کا جشن منایا۔
اس قانون کے تحت ان افراد کے لئے سزائے موت تجویز کی گئی ہے جنہیں فوجی عدالت کی جانب سے دہشت گردی کا مجرم قرار دیا جائے گااس کے محرکین کا دعویٰ ہے کہ اس کا مقصد دہشت گردی کے مجرموں کو سزا دینا ہے اس قانون کے تحت محکمہ جیل فیصلے کے بعد جیل کے اندر مجرموں کو پھانسی پر لٹکا کر قانونی کارروائی مکمل کرے گا ستم ظریفی یہ ہے کہ قانون سازوں کا کہنا ہے کہ یہودی دہشت گردی کوئی چیز نہیں ہوتی، یعنی دہشت گردصرف مسلمان ہی ہیں اور ان کے خلاف ہی کیس چلیں گے۔ اس بل کی تحریک اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے قومی سلامتی کے وزیر عوتسما یہودیت نے شروع کی تھی
فلسطینیوں کے لیے سزائے موت کا قانون منظور، انتہا پسند وزراء نے ایوان میں شراب کھول کر جشن منایا

