کیپ کیناورل : امریکی خلائی ادارے ‘ناسا’ نے انسانی تاریخ کا ایک اور سنہرا باب رقم کرنے کی تیاری مکمل کر لی ہے۔ 53 برسوں کے طویل تعطل کے بعد، انسان کو ایک بار پھر چاند کی دہلیز تک پہنچانے کے لیے ‘آرٹیمس-2’ (Artemis-2) مشن کی لانچنگ کے لیے پیر کے روز سے الٹی گنتی (Countdown) شروع کر دی گئی ہے۔
32 منزلہ عمارت جتنا بلند و بالا ‘اسپیس لانچ سسٹم’ (SLS) راکٹ بدھ کی شام چار خلابازوں کو لے کر خلا کی پہنائیوں کی طرف روانہ ہوگا۔ اس مشن کا خاکہ کچھ یوں ہے:
پہلا مرحلہ: راکٹ چار خلابازوں کو لے کر زمین کے مدار میں پہنچے گا۔
دوسرا مرحلہ: ایک دن زمین کے گرد چکر لگانے کے بعد ‘اورین کیپسول’ (Orion Capsule) چاند کی سمت اڑان بھرے گا۔
تیسرا مرحلہ: تقریباً 10 دن کے اس خلائی سفر کے بعد، یہ کیپسول بحرالکاہل میں ‘سپلیش ڈاؤن’ کے ذریعے بحفاظت زمین پر واپس اترے گا۔
آرٹیمس-2 مشن کو رواں سال فروری میں روانہ ہونا تھا، لیکن ہائیڈروجن ایندھن کے رساؤ اور بعد ازاں ہیلیم پریشر لائن میں خرابی نے مشن کو تاخیر کا شکار کیا۔ تاہم، ناسا کے انجینئرز نے دن رات کی محنت کے بعد ان تمام نقائص کو دور کر دیا ہے۔ لانچ ڈائریکٹر چارلی بلیک ویل تھامپسن کا کہنا ہے کہ "راکٹ اب بہترین حالت میں ہے اور تمام اشارے مثبت ہیں، ہمیں بس اب موسم کے ساتھ کی ضرورت ہے۔”
1968 سے 1972 کے ‘اپالو’ مشنز کے برعکس، جہاں صرف سفید فام مردوں کو چاند پر بھیجا گیا تھا، آرٹیمس-2 کا عملہ تنوع کی علامت ہے۔ اس بار عملے میں،ایک خاتون،ایک سیاہ فام (وکٹر گلوور) اور ایک غیر امریکی (کینیڈین) شہری شامل ہیں۔
مشن کے پائلٹ وکٹر گلوور نے جذباتی انداز میں کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ دنیا بھر کے بچے، چاہے وہ کسی بھی رنگ یا نسل کے ہوں، انہیں دیکھ کر یہ محسوس کریں کہ یہ کامیابی ان کی اپنی ہے۔ ان کا کہنا تھا، "میں چاہتا ہوں کہ کائنات کی کھوج محض کسی ایک ملک یا نسل کی نہیں بلکہ پوری انسانیت کی مشترکہ تاریخ بن جائے۔”
آرٹیمس-2 محض چاند کے گرد چکر لگانے کا مشن نہیں ہے، بلکہ یہ آرٹیمس-3 کے لیے بنیاد فراہم کر رہا ہے جس میں انسان ایک بار پھر چاند کی سطح پر قدم رکھے گا۔ یہ مشن ناسا کی "Deep Space Exploration” کی حکمتِ عملی کا کلیدی حصہ ہے، جس کا حتمی ہدف مریخ (Mars) تک رسائی ہے۔
53 سال بعد دوبارہ چاند پر: ناسا کا ‘آرٹیمس-2’ مشن اڑان بھرنے کو تیار، الٹی گنتی شروع!

