بیجنگ :نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے کی دعوت پر ان سے بیجنگ میں ملاقات کی۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ملاقات میں مذاکرات اور وفود کی سطح پر بات چیت کی گئی۔ دونوں فریقین نے دوطرفہ تعلقات کے مکمل دائرہ کار کا جائزہ لیا، مغربی ایشیا میں ہونے والی علاقائی پیش رفت پر گفتگواور باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔
رواں سا ل پاکستان اور چین سفارتی تعلقات کی 75 ویں سالگرہ کے موقع پر دونوں فریقین نے آل ویدر اسٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنرشپ کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اپنے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔ اعلیٰ معیار کی ترقی کے فروغ، سی پیک ٹو کے تحت اقتصادی اور تزویراتی تعاون کو گہرا بنانے اور تمام شعبوں میں اعلیٰ سطح کے تبادلے اور تعاون کو بڑھانے پر خصوصی زور دیا گیا۔
مغربی ایشیا کی ابھرتی ہوئی صورتحال پردونوں ملکوں نے امن، استحکام اور مذاکرات کے لیے اپنی مشترکہ وابستگی پر زور دیا اور پانچ نکاتی اقدام جاری کیا ۔ اقدام کا مقصد علاقائی امن اور استحکام کو فروغ دینا ہے۔ وزیر خارجہ وانگ یی نے اس سلسلے میں پاکستان کی تعمیری اور مسلسل سفارتی کوششوں کو سراہا۔۔
دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق 31 مارچ کو اسحاق ڈار اور وانگ ژی کی ملاقات کے دوران خلیج اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔
دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے خطے میں امن و امان کی بحالی کے لیے دونوں ممالک نے یہ پانچ نکاتی اقدامات تجویز کیے ہیں۔
کشیدگی کا فوری خاتمہ کیا جائے اور جنگ سے متاثرہ تمام علاقوں تک انسانی بنیادوں پر امداد کی بلا تعطل رسائی یقینی بنائی جائے۔
امن مذاکرات فوری طور پر شروع کیے جائیں کیوں کہ گفت و شنید اور سفارت کاری ہی تنازعات کے حل کا واحد قابل عمل راستہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایران اور خلیج کی ریاستوں کی خود مختاری، علاقائی سالمیت، قومی آزادی اور سکیورٹی یقنی بنائے جائے۔ تمام فریق تنازعات کا پر امن حل تلاش کریں اور مذاکرات کے دوران طاقت کے استعمال یا اس کی دھمکی سے گریز کریں۔
شہریوں اور غیر فوجی مقامات کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔ توانائی کے مراکز، پانی کو قابل استعمال بنانے والے مراکز اور پر امن مقاصد کے لیے استعمال ہونے والی جوہری تنصیبات پر حملے روکے جائیں۔
بحری گزر گاہوں کی حفاظت کی جائے۔ آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے جہازوں اور عملے کی سلامتی کو یقینی بنایا جائے، سول اور تجارتی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے بحری جہازوں کو محفوظ راستہ دیا جائے اور آبنائے ہرمز میں معمول کی آمد و رفت جلد از جلد بحال کی جائے۔
اقوام متحدہ کے تحت جامع امن کے لیے ایک فریم ورک تشکیل دیا جائے۔
میگا ڈپلومیسی ،مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے پاکستان اور چین کے پانچ نکات جاری

