نیویارک/ لندن : دہائیوں سے یہ سمجھا جاتا رہا ہے کہ اگر کسی شخص کو دل کا دورہ پڑ جائے، تو اسے زندگی بھر بیٹا بلاکرز (Beta-blockers) نامی ادویات کا سہارا لینا پڑے گا۔ لیکن اب طبی ماہرین اور جدید ریسرچ نے اس مروجہ طریقہ علاج پر بڑے سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔
بیٹا بلاکرز کیا ہیں؟
بیٹا بلاکرز وہ ادویات ہیں جو بلڈ پریشر کو کم کرنے اور دل کی دھڑکن کی رفتار کو سست کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔ اگرچہ یہ دل کی حفاظت کرتی ہیں، لیکن ان کے طویل مدتی استعمال سے درج ذیل سائیڈ ایفیکٹس سامنے آ سکتے ہیں:
شدید تھکن اور غنودگی۔
چکر آنا۔
منہ اور آنکھوں کا خشک ہونا۔
بعض صورتوں میں جنسی کمزوری۔
امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن اور دیگر عالمی اداروں کی حالیہ گائیڈ لائنز کے مطابق، وہ مریض جنہیں دل کا دورہ پڑے ایک سال سے زائد عرصہ ہو چکا ہے اور ان کے دل کے پٹھے (Ventricular function) درست کام کر رہے ہیں، انہیں شاید اب زندگی بھر ان ادویات کی ضرورت نہ رہے۔

مریضوں کو دوہرا فائدہ: صحت اور پیسہ
ماہرین کے مطابق ادویات کے اس ’ڈی ایسکلیشن‘ (کم کرنے کے عمل) سے مریضوں کو دو بڑے فائدے ہوں گے:
معیارِ زندگی (Quality of Life): ادویات کے سائیڈ ایفیکٹس سے جان چھوٹے گی اور مریض خود کو زیادہ توانا محسوس کریں گے۔
: اگرچہ یہ ادویات بہت مہنگی نہیں ہوتیں، لیکن زندگی بھر کا خرچ جمع کیا جائے تو یہ ایک خطیر رقم بنتی ہے۔
ماہرین کی رائے
نیویارک کے ماؤنٹ سینائی ہارٹ ہسپتال کے صدر ڈاکٹر ویلنٹن فسٹر کا کہنا ہے کہ "طریقہ علاج میں تبدیلی شروع ہو چکی ہے، اب ہم ان مریضوں کو بیٹا بلاکرز دینے میں بہت احتیاط برت رہے ہیں جن کا دل نارمل طریقے سے خون پمپ کر رہا ہے۔”
اہم نوٹ (Caution):
اگر آپ دل کے مریض ہیں اور بیٹا بلاکرز استعمال کر رہے ہیں، تو ہرگز خود سے دوا بند نہ کریں۔ یہ فیصلہ صرف آپ کا معالج (Cardiologist) آپ کے دل کی موجودہ حالت اور ٹیسٹ رپورٹس دیکھ کر کر سکتا ہے۔

