واشنگٹن/تہران/اسلام آباد : مشرق وسطیٰ میں جاری شدید کشیدگی کے درمیان ایک بڑی سفارتی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، امریکا نے پاکستان کے ذریعے ایران کو جنگ کے خاتمے اور مستقل جنگ بندی کے لیے ایک 15 نکاتی جامع تجویز ارسال کی ہے۔ سینیئر ایرانی حکام نے تجویز موصول ہونے کی تصدیق کر دی ہے، جبکہ مذاکرات کے لیے پاکستان یا ترکی کے ناموں پر غور کیا جا رہا ہے۔
پاکستان نے امریکی تجاویز ایران کو پہنچا دیں
امریکی خبر رساں ایجنسی نے بدھ کے روز دو پاکستانی حکام کے حوالے سے خبر دی ہے کہ ایران کو امریکا کی جانب سے 15 نکاتی مسودہ موصول ہوا ہے۔ ان حکام کے مطابق، اس وسیع تر تجویز میں درج ذیل اہم امور شامل ہیں:
ایران پر عائد پابندیوں میں بڑے پیمانے پر ریلیف۔
سویلین جوہری شعبے میں تعاون۔
ایران کے جوہری پروگرام کو واپس لینے (رول بیک) کے اقدامات۔
بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کی سخت نگرانی۔
ایران کے میزائل پروگرام کی حدود کا تعین۔
آبنائے ہرمز کے ذریعے بلا تعطل جہاز رانی کی ضمانت۔
خبر رساں ادارے نے بھی ایک سینیئر ایرانی اہلکار کے حوالے سے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ پاکستان نے امریکی تجاویز تہران تک پہنچا دی ہیں۔
مذاکرات کا مقام؟
روئٹرز کے مطابق، ایرانی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ترکی نے بھی جنگ ختم کرنے میں مدد کی ہے اور اب "مذاکرات کے مقام کے طور پر ترکی یا پاکستان دونوں پر غور کیا جا رہا ہے۔”
دوسری طرف، الجزیرہ کے مطابق، پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر رضا امیری مقادم نے براہ راست یا بالواسطہ بات چیت کی تردید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ "میری معلومات کے مطابق، دونوں ممالک کے درمیان اب تک کوئی مذاکرات نہیں ہوئے۔” تاہم، انہوں نے تسلیم کیا کہ "دوستانہ ممالک” نے جنگ ختم کرنے کے لیے دونوں فریقوں کے ساتھ مشاورت کی ہے۔ یہ بیانات امریکی صدر ٹرمپ کے ان دعوؤں کے بعد سامنے آئے ہیں جس میں انہوں نے ایک نامعلوم ایرانی اہلکار کے ساتھ "نتیجہ خیز مذاکرات” کا دعویٰ کیا تھا، جس کی تہران نے تردید کی ہے۔
امریکا کے 15 نکات کیا ہیں؟
اگرچہ کسی بھی ملک نے باضابطہ طور پر ان نکات کی تصدیق نہیں کی ہے، لیکن اسرائیلی اور امریکی میڈیا میں اس کی تفصیلات گردش کر رہی ہیں۔ اسرائیل کے چینل 12 کے مطابق، منصوبے میں امریکا کے سخت مطالبات شامل ہیں:
ایران سے مطالبات:
نطنز، اصفہان اور فردو میں جوہری تنصیبات کو غیر فعال کر کے ختم کیا جائے۔
IAEA کی جانب سے شفاف نگرانی اور جائزہ۔
خطے میں مسلح پراکسیز کا استعمال اور علاقائی گروہوں کی فنڈنگ و اسلحہ فراہمی کی مکمل بندش۔
پہلے سے جمع شدہ جوہری صلاحیتوں کا خاتمہ۔
جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے کا باضابطہ عہد۔
ایرانی سرزمین پر یورینیم کی افزودگی مکمل بند اور تمام مواد IAEA کے حوالے کیا جائے۔
آبنائے ہرمز کو ’آزاد بحری زون‘ قرار دیا جائے اور اس پر کوئی پابندی نہ ہو۔
میزائلوں کی تعداد اور حد مقرر کی جائے اور انہیں صرف دفاعی مقاصد تک محدود رکھا جائے (اس پر فیصلہ بعد میں ہوگا)۔
ایران کو پیشکش:
بوشہر میں سویلین جوہری منصوبے (بجلی پیداوار) کی ترقی میں امریکی مدد۔
ایران پر عائد تمام پابندیوں کا خاتمہ۔
پابندیوں کے دوبارہ نفاذ کے خطرے کا خاتمہ۔
رپورٹس کے مطابق، مذاکرات کے دوران ممکنہ طور پر ایک ماہ کی عارضی جنگ بندی بھی ہو سکتی ہے، تاہم وائٹ ہاؤس نے ابھی تک کوئی سرکاری تفصیل فراہم نہیں کی ہے۔
اسرائیل کا ردعمل اور خدشات:
اسرائیل کے وزیرِ معیشت نیر برکت نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اس بات کا امکان کم ہے کہ ایران اس منصوبے پر عمل کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ "کاغذ پر خوبصورت” نظر آتا ہے لیکن اس پر عملدرآمد کے لیے سخت ضمانتوں کی ضرورت ہوگی۔ نیر برکت نے واضح کیا کہ چونکہ ایران میں حکومت تبدیل نہیں ہو رہی، اس لیے اسرائیل کا مقصد جنگ میں ایران کو "جوہری ہتھیاروں، میزائلوں اور پراکیسوں سے” محروم کرنا ہے۔
مشرق وسطیٰ جنگ میں بڑی پیش رفت: امریکا کی پاکستان کے ذریعے ایران کو 15 نکاتی جنگ بندی کی تجویز، تہران کی تصدیق، اسرائیل کا اظہار تشویش

