لندن / تہران (خصوصی رپورٹ)کیا تاریخ خود کو دہرا رہی ہے یا یہ محض ریاضی کا ایک ہولناک کھیل ہے؟ سال 2026 کا آغاز ہوتے ہی دنیا بھر میں ایک ایسی بحث چھڑ گئی ہے جس نے خوف اور تجسس کی لہر دوڑا دی ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ رواں سال 2026 کا کیلنڈر بالکل وہی ہے جو 1914 کا تھا— وہی سال جب انسانی تاریخ کی سب سے تباہ کن ‘پہلی جنگِ عظیم’ کا آغاز ہوا تھا۔
کیلنڈر کا جادو یا تباہی کا پیغام؟
حیرت انگیز طور پر، سال 1914 اور 2026 کے درمیان مماثلت محض اتفاق سے بڑھ کر محسوس ہوتی ہے:
آغازِ سال: 1914 کی طرح 2026 کا پہلا دن بھی جمعرات سے شروع ہوا۔
دنوں کی ترتیب: دونوں سالوں کے تمام 365 دنوں کی ترتیب، تاریخیں اور مہینے ایک جیسے ہیں۔
فروری کا مہینہ: دونوں برسوں میں فروری 28 دن کا ہے، جو کیلنڈر کے اس ‘مرر ڈیزائن’ کو مکمل کرتا ہے۔
1914: جب دنیا لہو لہو ہوئی
یاد رہے کہ 1914 وہ سال تھا جب سربیا کے ایک طالب علم نے آسٹریا کے ولی عہد فرانز فرڈینینڈ کو قتل کیا اور محض ایک چنگاری نے پوری دنیا کو چار سالہ طویل جنگ کی آگ میں جھونک دیا۔ اس جنگ نے سلطنتوں کو مٹایا اور دنیا کا نقشہ ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔
2026: مشرقِ وسطیٰ کا بارود خانہ
آج جب ہم 2026 میں کھڑے ہیں، حالات 1914 سے مختلف نہیں نظر آتے۔ مشرقِ وسطیٰ، خاص طور پر ایران اور امریکہ کے درمیان جاری براہِ راست جنگ، بحیرہ احمر میں تناؤ اور عالمی طاقتوں (روس، چین اور امریکہ) کا آمنے سامنے آنا اس خدشے کو تقویت دے رہا ہے کہ کیا یہ ‘کیلنڈر کی واپسی’ کسی بڑی تباہی کا پیش خیمہ تو نہیں؟
کیا تاریخ دہرائی جائے گی؟
ماہرینِ فلکیات اور ریاضی دانوں کا کہنا ہے کہ گریگورین کیلنڈر کا یہ نمونہ ہر 28 سال بعد دہرایا جاتا ہے، لیکن 1914 اور 2026 کے درمیان سیاسی مماثلت نے اس سائنسی حقیقت کو ایک سنسنی خیز رخ دے دیا ہے۔ کیا دنیا کسی تیسری عالمی جنگ (World War III) کے دہانے پر کھڑی ہے؟ تہران پر گرتے بم اور واشنگٹن کی تڑپتی زبان تو یہی اشارہ دے رہی ہے۔
دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران میں جاری جنگ کے تناظر میں سال 2026 ایک عجیب اور حیران کن اتفاق لے کر آیا ہے۔ اس سال کا کیلنڈر بالکل اسی ترتیب میں ہے جیسے سال 1914 کا تھا،وہی سال جب پہلی جنگِ عظیم کی چنگاری بھڑکی تھی۔ یہ مماثلت نہ صرف تاریخ کے دلچسپ پہلو کو اجاگر کرتی ہے بلکہ سوال بھی پیدا کرتی ہے کہ کیا تاریخ خود کو دہرا سکتی ہے؟
سال 2026 اور 1914 دونوں میں تاریخوں اور دنوں کی ترتیب ایک جیسی ہے، یعنی کیلنڈر کا ڈیزائن تقریباً مکمل طور پر ایک جیسا بنتا ہے۔جیسے یکم جنوری 2026 جمعرات کے دن شروع ہو رہا ہے، اسی طرح یکم جنوری 1914 بھی جمعرات کو ہی تھا۔
اسی طرح دونوں سالوں میں فروری کے 28 دن ہیں۔ اس طرح دونوں برسوں کا کیلنڈر تقریباً بالکل یکساں ہے۔
یاد رہے کہ 1914 کوئی عام سال نہیں تھا بلکہ اسی سال پہلی جنگِ عظیم کی چنگاری بھڑکی تھی، ایک ایسی جنگ جس نے دنیا کے نقشے کو بدل دیا اور لاکھوں انسانوں کی جانیں لے لیں۔
پہلی جنگِ عظیم 28 جولائی 1914 کو شروع ہوئی، جب آسٹریا کے ولی عہد فرانز فرڈینینڈ اور ان کی اہلیہ کو سربیا کے ایک طالب علم نے سرايیوو میں قتل کر دیا تھا۔ اس واقعے نے فوجی اتحادوں کے نظام کی وجہ سے ایک بڑے عالمی تنازع کی شکل اختیار کر لی۔
آسٹریا نے سربیا کے خلاف جنگ کا اعلان کیا اور پھر بڑی عالمی طاقتیں بھی اس میں شامل ہوتی گئیں۔یہ جنگ چار سال تک جاری رہی اور 1918 میں ختم ہوئی، مگر اس دوران دنیا کے سیاسی اور جغرافیائی نقشے میں بڑی تبدیلیاں آ گئیں۔
ماہرین کے مطابق کیلنڈر کے یہ وقت کے نمونے تقریباً ہر 28 سال بعد دہرائے جاتے ہیں۔ تاہم موجودہ عالمی حالات کی وجہ سے یہ سوال ضرور اٹھ رہا ہے کہ:کیا تاریخ خود کو دہرا سکتی ہے؟ اور کیا دنیا کسی تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر کھڑی ہے؟ان سوالات کا جواب آنے والے دنوں میں ہی واضح ہو سکے گا۔

