تیل کی قیمتیں بھی 30 فیصد تک بڑھ گئیں۔
مشرق وسطیٰ میں تنازعات کے درمیان خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ برینٹ کروڈ کے ایک بیرل کی قیمت 108.77 امریکی ڈالر تک بڑھ گئی ہے، جو کہ 2020 میں COVID-19 کی وبا شروع ہونے کے بعد سے اس کی بلند ترین سطح ہے۔ یہ پچھلے ہفتے 28 فیصد اضافے کے اوپر ہے۔
پاکستان سٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں پیر کی صبح شدید مندی دیکھنے میں آئی، جس کے نتیجے میں کے ایس سی 100 انڈیکس تقریباً 9,780.15 پوائنٹس گرنے کے بعد عارضی طور پر معطل کر دیا گیا۔
پی ایس ایکس کی جانب سے جاری نوٹس کے مطابق کے ایس سی 30 انڈیکس اپنے پچھلے تجارتی دن کے اختتام سے پانچ فیصد گرنے پر مارکیٹ ہالٹ کی کارروائی کی گئی اور اس کے بعد تمام ایکویٹی بیسڈ مارکیٹس معطل کر دی گئیں۔
ایشیا پیسیفک خطے میں سٹاک مارکیٹس میں نمایاں گراوٹ دیکھی جا رہی ہے کیونکہ تیل کی قیمت چار برس میں پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی ہے۔
جاپان میں چھ فیصد سے زیادہ کمی، جنوبی کوریا میں 12 فیصد اور آسٹریلیا میں تقریباً چار فیصد کمی دیکھی گئی ہے۔
گذشتہ ہفتے کے دوران امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر تازہ فضائی حملوں نے عالمی سطح پر اس خدشے میں اضافہ کیا ہے کہ خطے سے توانائی کی سپلائی میں بڑی رکاوٹیں پیدا ہو سکتی ہیں۔
غیرملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق سرمایہ کار، جو پہلے ہی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں بڑے پیمانے پر اخراجات کے حوالے سے پریشان تھے، نے مارکیٹ سے پیچھے ہٹنا شروع کر دیا کیونکہ خام تیل کی قیمتیں روس کے یوکرین پر حملے کے بعد اب اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ اصرار کہ صرف ایران کی ’غیر مشروط ہتھیار ڈالنے‘ سے ہی جنگ ختم ہو سکتی ہے، جس کے بعد سرمایہ کاروں میں مزید خدشات پیدا ہوئے کہ مشرق وسطیٰ کا تنازعہ طویل عرصے تک جاری رہ سکتا ہے۔
یہ اس لیے پریشان کن ہے کیونکہ اس سے دنیا بھر میں صارفین اور کاروباروں کے لیے قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
امریکی تیل کی نمایاں مارکیٹ ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت 30 فیصد بڑھ کر 118.88 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی جبکہ برینٹ کی قیمت 28 فیصد بڑھ کر 118.73 ڈالر فی بیرل ہو گئی۔
ایران میں جاری جنگ کے اثرات کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔ برینٹ کروڈ فی بیرل تقریباً 119.50 ڈالر تک پہنچ گیا جبکہ بعد میں 112.98 ڈالر پر ٹریڈ کر رہا تھا۔
امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ بھی 119.48 ڈالر تک پہنچنے کے بعد 110.17 ڈالر پر واپس آیا۔
یہ ایران جنگ کے آغازکے بعد ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت 75 فیصد اور برینٹ کی قیمت 60 فیصد سے زیادہ اضافہ ہے۔
جنوبی عراق اور شمالی خود مختار کردستان کے علاقوں میں امریکی تیل کی تنصیبات پر حملے کی اطلاعات ہیں، جس کے باعث ایک امریکی آئل فیلڈ بند ہو گیا جبکہ متحدہ عرب امارات اور کویت نے بھی اپنی پیداوار کم کرنا شروع کر دی۔
یہ صورت حال آبنائے ہرمز میں سمندری آمد و رفت کے بند ہونے کے بعد سامنے آئی ہے جہاں سے دنیا کے خام تیل اور گیس کا پانچواں حصہ گزرتا ہے۔
تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ،پاکستان سمیت ایشیائی مارکیٹوں کا بھٹہ بیٹھ گیا

