واشنگٹن:نیویارک ٹائمز کے سروے میں صرف 21 فیصد حمایت یہ بتاتی ہے کہ پڑھے لکھے طبقے میں اس جنگ کی کوئی قانونی یا اخلاقی حیثیت نہیں ہے۔ 7 مارچ کے ملک گیر مظاہرے ٹرمپ انتظامیہ کے لیے ایک بڑا سیاسی بحران ثابت ہو سکتے ہیں، کیونکہ اب تابوتوں کی واپسی (6 فوجیوں کی ہلاکت) کی خبریں ان سرویز کے نتائج کو مزید سنگین بنا دیں گے
روئٹرز/اپسوس کے اختتامِ ہفتہ کیے گئے رائے عامہ کے ایک نئے جائزے کے مطابق، صرف 27 فیصد امریکیوں نے ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی بمباری کی حمایت کی، جبکہ 43 فیصد نے اس کی مخالفت کی۔ یہ سروے ان خبروں کے سامنے آنے سے قبل کیا گیا تھا کہ ایرانی جوابی حملوں میں چھ امریکی فوجی مارے گئے ہیں۔
پیر اور منگل کو کیے گئے سی بی ایس (CBS) کے ایک سروے سے معلوم ہوا ہے کہ تقریباً 1,400 امریکی بالغوں میں سے 60 فیصد سے زائد کا ماننا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ایران میں امریکی مقاصد کے حوالے سے کوئی واضح وضاحت پیش نہیں کی۔
سی این این کے ایک سروے کے مطابق 59 فیصد افراد نے جنگ کی مخالفت کی، جب کہ یو گو کے ایک سروے میں 45 فیصد مخالفت دیکھنے میں آئی جب کہ حمایت صرف 33 فیصد نے کی۔
نیویارک ٹائمز کے ایک سروے میں صرف 21 فیصد نے ایران پر حملے کی حمایت کی۔ اس سرویز میں لوگوں نے مخالفت کی وجوہات میں لمبی جنگ، فوجی اخراجات اور مہنگائی وغیرہ بتائیں۔
اس کے علاوہ کئی امریکی شہروں میں جنگ کے خلاف مظاہرے اور احتجاج ہوئے ہیں۔ لاس اینجلس، واشنگٹن ڈی سی اور نیویارک میں بڑے مظاہرے ہوئے جہاں ہزاروں افراد نے حملوں کو غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دیا۔ لاس اینجلس میں مظاہرین نے ’پیسہ نوکریوں کے لیے، بموں کے لیے نہیں‘ کے نعرے لگائے۔ سات مارچ کو ملک گیر مظاہرے متوقع ہیں۔
تابوتوں کی واپسی اور عوامی غصہ: امریکیوں نے ایران پر حملے کو ‘غیر آئینی’ قرار دے کر مسترد کر دیا۔

