سیالکوٹ (سلیم احمد اعوان شیخو) گورنمنٹ کالج وویمن یونیورسٹی میں ٹرانسپورٹ پالیسی اچانک تبدیلی ہونے سے طالبات میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
گورنمنٹ کالج وویمن یونیورسٹی کی طالبات کو ٹرانسپورٹ سہولت سے متعلق اچانک نئی ہدایات کے بعد شدید مشکلات اور تشویش کا سامنا ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے حالیہ اعلان میں کہا گیا ہے کہ آئندہ صبح سے صرف وہی طالبات یونیورسٹی بس سروس استعمال کر سکیں گی جن کے پاس ٹرانسپورٹ چالان یا ادائیگی کا ثبوت موجود ہوگا بصورت دیگر انہیں بس میں سوار ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
طالبات کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے انہیں شدید پریشانی کا سامنا ہے کیونکہ نہ تو انہیں اس تبدیلی سے پہلے واضح طور پر آگاہ کیا گیا اور نہ ہی چالان حاصل کرنے یا آن لائن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے مناسب سہولت فراہم کی گئی۔ متعدد طالبات نے شکایت کی ہے کہ موجودہ صورتحال میں ادائیگی کے باوجود دستاویزی ثبوت حاصل کرنا مشکل ہو رہا ہے۔
طالبات نے اس بات پر بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے کہ ماہانہ ٹرانسپورٹ فیس 4500 روپے مقرر ہونے کے باوجود کئی طالبات صرف محدود دن (تقریباً 8 دن ماہانہ) ہی یونیورسٹی آ رہی ہیں جبکہ ماہ جون میں تعلیمی سیشن کے اختتامی امتحانات بھی ہیں جس کے بعد طویل چھٹیوں کا امکان ہے۔ اس صورتحال میں مکمل ماہانہ فیس کی وصولی کو غیر منصفانہ قرار دیا جا رہا ہے۔
طالبات کا مطالبہ ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ اس پالیسی پر نظرثانی کرے واضح رہنمائی فراہم کرے اور ایسی سہولت یقینی بنائے جس سے طالبات کو غیر ضروری مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
گورنمنٹ کالج وویمن یونیورسٹی میں ٹرانسپورٹ پالیسی اچانک تبدیلی ہونے سے طالبات میں تشویش کی لہر دوڑ گئی

