واشنگٹن/تہران: مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ نے اس وقت ایک نیا اور ہولناک رخ اختیار کر لیا ہے جب امریکی ریاست میسوری سے اڑان بھرنے والے بی-2 (B-2 Stealth Bombers) اسٹیلتھ بمبار طیاروں نے ایران کی انتہائی حساس اور گہری زیرِ زمین میزائل تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ حالیہ حملوں کو رہبرِ اعلیٰ کی شہادت کے بعد اب تک کی سب سے بڑی عسکری پیش قدمی قرار دیا جا رہا ہے۔
اطلاعات کے مطابق امریکی فضائیہ نے ان حملوں میں 2000 پاؤنڈ وزنی ‘بنکر بسٹر’ بموں کا استعمال کیا ہے، جو کنکریٹ کی کئی فٹ موٹی تہوں کو چیر کر اندر تک تباہی مچانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
حملوں کے نتیجے میں زیرِ زمین میزائل اڈوں کے داخلی راستے (Entrances) مکمل طور پر منہدم ہو گئے ہیں، جس کے باعث اندر موجود سینکڑوں میزائل اور لانچرز وہیں ‘سیل’ ہو کر رہ گئے ہیں۔
دفاعی ماہرین کا دعویٰ ہے کہ ایران کے اسٹریٹجک میزائلوں کا ایک بڑا حصہ یا تو تباہ ہو چکا ہے یا زمین دوز سرنگوں میں دب جانے کی وجہ سے اب ناقابلِ استعمال ہے۔
یہ کارروائی "آپریشن ایپک فیوری” میں ایک بڑی تزویراتی تبدیلی (Major Shift) کی نشاندہی کرتی ہے۔ اب تک حملے سطحِ زمین پر موجود فوجی تنصیبات تک محدود تھے، لیکن اب امریکی فضائی مہم ان گہرے اور قلعہ نما مقامات کی طرف منتقل ہو گئی ہے جنہیں ایران اپنا محفوظ ترین دفاع سمجھتا تھا۔
درجنوں بم گرائے جانے کے بعد ایران کا دفاعی نظام شدید دباؤ کا شکار ہے۔ میزائلوں کی ایک بڑی تعداد کے ملبے تلے دب جانے سے ایران کی جوابی کارروائی کی صلاحیت محدود ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ حملے ایران کے عسکری ڈھانچے کی کمر توڑنے کی ایک باقاعدہ کوشش ہے۔
بموں کی برسات: امریکی بی-2 اسٹیلتھ بمبار طیاروں کا ایران کی زیرِ زمین میزائل تنصیبات پر بڑا حملہ

