تہران/تل ابیب: مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی نے اس وقت خطرناک ترین موڑ اختیار کر لیا جب ایران نے اپنی جوہری تنصیبات اور فوجی اہداف پر ہونے والے حملوں کا باضابطہ جواب دیتے ہوئے اسرائیل کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کا آغاز کر دیا۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ایران نے اسرائیلی دفاعی نظام کو نشانہ بنانے کے لیے ڈرونز اور بیلسٹک میزائلوں کی ایک بڑی لہر روانہ کر دی ہے۔
امریکی اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں ایران نے قطر، متحدہ عرب امارات، بحرین اور کویت میں امریکی اڈوں پر میزائل حملے کردیئے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کی جانب سے منامہ بحرین میں امریکی نیوی کے پانچویں بیڑے کے ہیڈکوارٹر پر میزائل حملہ کیا گیا، ابو ظہبی اور کویت میں بھی دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جب کہ قطری وزارتِ دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ قطر کی فضائی حدود میں ایرانی میزائل مار گرایا گیا، اس کے علاوہ قطری حکومت کی جانب سے پورے ملک میں ایک ساتھ موبائل فونز پر وارننگ جاری کردی گئی۔ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) اور دفاعی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیل کے خلاف "آپریشن فتح خیبر” کے تحت درج ذیل ہتھیار استعمال کیے گئے ہیں:
کامی کازی ڈرونز: ایران نے تقریباً 100 سے زائد خودکش ڈرونز لانچ کیے ہیں، جو مختلف سمتوں سے اسرائیلی فضائی حدود کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
: ڈرونز کے ساتھ ساتھ 30 بیلسٹک میزائلوں کا استعمال کیا گیا ہے جن کا مقصد اسرائیل کے حساس فوجی اڈوں اور فضائی دفاعی تنصیبات کو براہِ راست نشانہ بنانا ہے۔
حملے کی اطلاع ملتے ہی اسرائیل بھر میں ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔
آئرن ڈوم اور ایرو سسٹم: اسرائیل کے دفاعی نظام ‘آئرن ڈوم’ اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے ‘ایرو’ میزائل سسٹم کو فعال کر دیا گیا ہے تاکہ ایرانی میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کیا جا سکے۔
تل ابیب، یروشلم اور شمالی اسرائیل کے علاقوں میں خطرے کے سائرن بجنا شروع ہو گئے ہیں اور شہریوں کو بنکرز میں جانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
اردن، عراق اور اسرائیل نے ہنگامی بنیادوں پر اپنی فضائی حدود ہر قسم کی سویلین پروازوں کے لیے بند کر دی ہیں۔رپورٹ کے مطابق ایران نے بحرین پر بھی میزائل داغے ہیں تاہم اس سے ہونے والے جانی ومالی نقصان کے بارے میں علم نہیں ہوسکا۔
امریکا نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اسرائیل کے دفاع کے لیے پرعزم ہے اور خطے میں موجود امریکی بحری بیڑے صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ دوسری جانب اقوامِ متحدہ نے فریقین سے تحمل کا مطالبہ کیا ہے تاکہ اس تصادم کو ایک عالمی جنگ میں تبدیل ہونے سے روکا جا سکے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کا یہ حملہ نہ صرف ایک فوجی کارروائی ہے بلکہ یہ اس کی دفاعی طاقت کا مظاہرہ بھی ہے، جس کے بعد اب گیند اسرائیل اور امریکا کے کورٹ میں ہے کہ وہ اس کا کتنا سخت جواب دیتے ہیں۔

