جبینوا: ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان ’بالواسطہ‘ جوہری مذاکرات کا دوسرا دور جنیوا میں اختتام کو پہنچا۔ جوہری مذاکرات شروع ہوتے ہی ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے کہا ہے کہ امریکہ ایران کو تباہ کرنے میں ’کامیاب نہیں ہو گا‘
اطلاعات کے مطابق ایران اور امریکا کے مذاکرات کا دوسرا دور ختم ہو گیا ہے اور ایرانی وفد مذاکرات کے مقام سے چلے گئے ہیں۔اس دوران وہاں موجود صحافیوں نے زور دیا کہ امریکی وفد اس عمارت میں داخل نہیں ہوا جہاں عمان کے وزیر خارجہ اور ایرانی ٹیم موجود تھی۔ دوسری طرف اطلاع ہے کہ آبنائے ہرمز کو ایرانی بحریہ کی جنگی مشقوں کی وجہ سے عارضی طور پربند کردیا گیا ہے ۔
جوہری مذاکرات شروع ہوتے ہی ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے کہا ہے کہ امریکا ایران کو تباہ کرنے میں ’کامیاب نہیں ہو گا‘۔امریکا کی جانب سے طیارہ بردار بحری جہاز بھیجنے کا ذکر کرتے ہوئے خامنہ ای نے زور دے کر کہا کہ ’بحری جہاز یقیناً ایک خطرناک ہتھیار ہے، لیکن سب سے خطرناک ہتھیار وہ ہے جو اسے سمندر کی گہرائیوں میں ڈبو سکتا ہے۔‘
ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق خامنہ ای نے مزید کہا کہ ’ایجنٹوں کے علاوہ تمام متاثرین اور ہلاک ہونے والے ایران کے فرزند ہیں‘۔
یہ بات اس ملاقات کے دوران ہوئی جس میں خامنہ ای نے منگل کے روز مشرقی آذربائیجان صوبے میں ’18 فروری 1978 کو تبریز کے عوام کی بغاوت‘ کی سالگرہ کے موقع پر ہزاروں ایرانیوں سے ملاقات کی۔
ایک سینیئر ایرانی اہلکار نے منگل کو خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ جنیوا میں موثر جوہری مذاکرات کو یقینی بنانے کے لیے ایران پر سے پابندیاں ہٹانے اور غیر حقیقی مطالبات سے گریز کرنے میں امریکا کی سنجیدگی ضروری ہے۔
ایرانی نشریاتی ادارے نے خبر دی ہے کہ امریکی وفد نے عمانی وزیر خارجہ اور بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل سے ملاقات کی اور ان ملاقاتوں کے ذریعے مذاکرات کا یہ دور ’تکنیکی مرحلے‘ میں داخل ہو گیا۔

