نئی دہلی :دہلی ہائیکورٹ نے نو کروڑ روپے مالیت کا چیک باؤنس ہونے سے متعلق ایک کیس میں بالی وڈ اداکار راجپال یادو کو عبوری ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔
دلی کی تہاڑ جیل میں قید راجپال یادو کی عبوری ضمانت اِس کیس کی اگلی سماعت (جو 18 مارچ کو ہو گی) تک منظور کی گئی ہے۔
دہلی ہائیکورٹ نے یہ ضمانت ایک لاکھ روپے کے بانڈز (زر ضمانت) کے عوض منظور کی ہے۔
یہ فیصلہ سامنے آنے کے بعد راجپال یادو کے مینیجر گوڈی جین نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ فیصلہ راجپال یادو کے تمام مداحوں کے لیے خوشی کا باعث ہو گا۔ تمام قانونی کارروائیاں مکمل ہونے کے بعد راجپال یادو جلد جیل سے رہا ہو جائیں گے، ہمیں صرف تھوڑا انتظار کرنا ہو گا۔‘
یاد رہے کہ راجپال یادو نے پانچ فروری کو چیک باؤنس ہونے سے متعلق کیس میں خود کو حکام کے حوالے کیا تھا۔
راجپال یادیو کی حمایت میں سامنے آنے والوں میں سلمان خان اور اجے دیوگن بھی شامل تھے۔ اس کے علاوہ انڈین سیاستدان لالو پرساد یادو کے بیٹے تیج پرتاپ نے بھی جیل میں قید اداکار کی مالی مدد کرنے کا اعلان کیا تھا۔
خیال رہے اس مقدمے میں دہلی ہائی کورٹ نے راجپال یادو کو خود کو جیل انتظامیہ کے حوالے کرنے کے لیے چار فروری تک کا وقت دیا تھا لیکن وہ پانچ فروری کو تہاڑ جیل پہنچے اور اپنے آپ کو پولیس کے حوالے کیا۔
ضمانت ملنے کے بعد ان کے بڑے بھائی سریپال یادو نے این ڈی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے خوشی کا اظہار کیا۔
سریپال یادو نے کہا کہ ’خاندان اس خبر سے بے حد خوش ہے کیونکہ راجپال اپنی بھانجی کی شادی میں شرکت کر سکیں گے۔‘راجپال یادو نے سنہ 2012 میں اپنی ہدایت کاری میں بننے والی فلم ’اتہ پتا لاپتہ‘ کے لیے کمپنی ’مرالی پروجیکٹس پرائیویٹ لمیٹڈ‘ سے پانچ کروڑ روپے قرض لیا تھا۔ فلم باکس آفس پر ناکام رہی جس کے باعث انہیں بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا۔
وقت کے ساتھ سود اور جرمانوں کی وجہ سے رقم بڑھ کر تقریباً نو کروڑ روپے ہو گئی۔ ادائیگی کے لیے جاری کیے گئے متعدد چیکس باؤنس ہونے کے بعد ان کے خلاف ’نیگوشی ایبل انسٹرومنٹس ایکٹ‘ کے تحت فوجداری کارروائی شروع کی گئی۔
اکتوبر 2025 میں 75 لاکھ روپے کے دو ڈیمانڈ ڈرافٹس جمع کرانے اور بعد ازاں 25 لاکھ روپے کی مزید پیشکش کے باوجود عدالت نے بار بار وعدہ خلافی کا نوٹس لیا اور مزید مہلت دینے کی درخواست مسترد کر دی۔
چیک باؤنس کیس، بھارتی اداکار راجپال یادو کو ہائیکورٹ سے عبوری ضمانت مل گئی

