ڈھاکہ:طارق رحمان نے اپنی کابینہ سمیت بنگلہ دیش کے نئے وزیراعظم کا حلف اٹھا لیا ، دیگر قانون سازوں نے بھی منگل کو اسمبلی رکنیت کا حلف اٹھا لیا ہے۔
بنگلہ دیش سے وفاداری کا عہد کرنے والے قانون سازوں سے چیف الیکشن کمشنر اے ایم ایم ناصر الدین نے حلف لیا۔
بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے قانون سازوں نے طارق رحمٰن کو اپنا لیڈر منتخب کیا ہے جس کے بعد طارق رحمان اور دیگر وزراء نے ایک تقریب میں اپنے عہدوں کا حلف اٹھا لیا۔
واضح رہے کہ 12 فروری کو ہوئے انتخابات میں بی این پی نے بھاری اکثریت حاصل کی۔ 300 نشستوں والی پارلیمنٹ میں بی این پی نے 151 سے زیادہ نشستیں حاصل کیں۔ جماعت اسلامی، جو پہلے بی این پی کی اتحادی تھی نے حزب اختلاف کی جماعت کے طور پر انتخابات میں حصہ لیا اور دوسری سب سے بڑی جماعت کے طور پر ابھری۔ جماعت اسلامی نے حالیہ الیکشن میں خود کو ایک اہم اپوزیشن قوت کے طور پر مستحکم کر لیا ہے۔
بنگلہ دیش الیکشن کمیشن کے مطابق، بی این پی کی قیادت والے اتحاد نے 212 نشستیں حاصل کیں، جب کہ جماعت اسلامی کی قیادت والے بلاک نے 77 نشستوں پر جیت درج کی ہے۔ حسینہ واجد کی بنگلہ دیش عوامی لیگ کو انتخابات میں حصہ لینے سے روک دیا گیا۔
بنگلہ دیش اب ‘فرمانبردار ملک’ نہیں رہا: محمد یونس کا الوداعی خطاب
این اے پی کے چیئرمین طارق رحمان کی بطور وزیر اعظم حلف سے قبل عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس نے قوم سے اپنا آخری خطاب کیا۔ یونس نے پیر کو اپنے الوداعی خطاب میں کہا کہ بنگلہ دیش ایک "مطیع” ملک نہیں رہا۔
سبکدوش ہونے والے محمد یونس نے کہا کہ ان کے 18 ماہ کے اقتدار نے بنگلہ دیش کی بیرونی مصروفیت کے تین بنیادی ستونوں "خود مختاری، قومی مفادات اور وقار” کو بحال کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت کے اختتام پر "آج کا بنگلہ دیش اپنے آزاد مفادات کے تحفظ کے لیے پُر اعتماد، فعال اور ذمہ دار ہے”۔
انہوں نے اقتدار چھوڑنے سے ایک دن قبل ٹیلیویژن سے اپنے خطاب میں کہا کہ بنگلہ دیش اب ایک تابعدار خارجہ پالیسی والا ملک نہیں رہا اور نہ ہی یہ دوسرے ممالک کی ہدایات اور مشوروں پر منحصر ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان کے 18 ماہ کے دور حکومت نے ملک کی غیر ملکی مصروفیات کے تین بنیادی ستونوں "خودمختاری، قومی مفادات اور وقار” کو از سر نو تعمیر کیا ہے۔
محمد یونس نے مزید کہا کہ "میں پارٹی، فرقہ، مذہب، ذات یا جنس سے قطع نظر ہر ایک سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ایک منصفانہ، انسانی اور جمہوری بنگلہ دیش کی تعمیر کے لیے جدوجہد جاری رکھیں۔ اس اپیل کے ساتھ میں بڑی امید کے ساتھ رخصت ہو رہا ہوں۔”
محمد یونس کی عبوری حکومت اگست 2024 میں شروع ہوئی تھی اور منگل کو بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی قیادت میں نئی حکومت کی حلف برداری کے ساتھ اس کی مدت ختم ہو گئی ہے۔
وزیراعظم طارق رحمان سمیت بنگلہ دیش کے نومنتخب پارلیمینٹرینز نے حلف اٹھا لیا

