تحریر:اسد مرزا
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتا ہے
پاکستان میں سیاست ایک بار پھر قربانی سے پہلے قربانی کے پرانے فارمولے پر چلتی دکھائی دے رہی ہے۔ پس پردہ سرگرمیاں تیز ہو چکی ہیں، جہاں اقتدار کے موجودہ بندوبست سے نالاں حلقے خاموشی سے نئی بساط بچھانے میں مصروف ہیں۔ مختلف سمتوں سے آنے والے بااثر کرداروں کے درمیان رابطے بڑھ گئے ہیں، جن کا ہدف ایک ایسے سیٹ اپ کی تشکیل بتایا جا رہا ہے جو موجودہ حکومت کا متبادل بن سکے۔ اہم پیش رفت ایک ایسے رہنما کے گرد گھومتی دکھائی دے رہی ہے جو اس وقت سلاخوں کے پیچھے ہے۔ ذرائع کے مطابق اسے قائل کرنے کی کوششیں جاری ہیں، مگر فی الحال اس کی جانب سے کسی قسم کی رضامندی سامنے نہیں آئی۔ اندرونی اطلاعات کے مطابق وہ سب سے زیادہ برہم اپنی ہی جماعت سے الگ ہونے والی سابق بااثر شخصیات پر ہے، جن پر ذاتی مفادات کے لیے سیاسی بساط کو بار بار الٹ پلٹ کرنے کا الزام ہے۔
دوسری جانب طاقت کے ایوانوں میں ہونے والی حالیہ انتظامی تبدیلیوں کو بھی انہی خفیہ تحرکات سے جوڑا جا رہا ہے۔ باخبر حلقے اشارہ دے رہے ہیں کہ ایک اہم صوبائی عہدے پر ہونے والا اچانک تبادلہ محض معمول کی کارروائی نہیں بلکہ آنے والے دنوں میں مزید تبدیلیوں کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے۔
پس منظر میں ملک کی بگڑتی معیشت اس پورے منظرنامے کو مزید تیز کر رہی ہے۔ بڑھتی مہنگائی، بے روزگاری، صنعتی پہیے کا رک جانا، بڑی فیکٹریوں کی بندش اور سرمایہ کاروں کا ملک چھوڑنا عوامی اعتماد کو بری طرح مجروح کر چکا ہے۔ سلامتی کے مسائل اور دہشت گردی کے خلاف غیر مؤثر حکمت عملی نے بھی حالات کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق جب عوامی مقبولیت نچلی سطح پر آ جائے اور معاشی دباؤ ناقابلِ برداشت ہو جائے تو بند کمروں میں فیصلے تیزی سے ہونے لگتے ہیں۔ یہ خفیہ جوڑ توڑ کب اور کس شکل میں کھل کر سامنے آتا ہے۔ ذرائع واضح اشارے دے رہے ہیں کہ موجودہ بندوبست کے لیے دن آسان نہیں رہے، اور آنے والے ہفتے ملکی سیاست میں بڑے جھٹکوں کی نوید بن سکتے ہیں


