راولپنڈی: بلوچستان میں سکیورٹی فورسز نے بروقت اور مؤثر کارروائیوں کے ذریعے دہشت گردی کی ایک بڑی کوشش ناکام بناتے ہوئے گزشتہ دو دنوں کے دوران فتنہ الہندوستان کے 133 دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا۔دہشتگردوں کی کارروائیوں میں 18 شہری شہید ہوئے جبکہ سکیورٹی فورسز کے 15 جوانوں نے جام شہادت نوش کیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 31 جنوری 2026 کو بھارتی سرپرستی میں سرگرم فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کی کوشش کی۔ دہشت گردوں نے کوئٹہ، مستونگ، نوشکی، دالبندین، خاران، پنجگور، تمپ، گوادر اور پسنی سمیت مختلف علاقوں میں متعدد دہشت گردانہ کارروائیاں کیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ان دہشت گرد حملوں کا مقصد بلوچستان کی ترقی کو سبوتاژ کرنا اور مقامی آبادی کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرنا تھا۔ ضلع گوادر اور خاران میں دہشت گردوں نے معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا، جن میں خواتین، بچے، بزرگ اور مزدور شامل تھے۔ ان بزدلانہ کارروائیوں کے نتیجے میں 18 بے گناہ شہری شہید ہوئے۔سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مکمل مستعدی کے ساتھ فوری ردعمل دیتے ہوئے دہشت گردوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنایا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق فورسز نے بھرپور جوابی کارروائیوں کے دوران حملے ناکام بناتے ہوئے 3 خودکش بمباروں سمیت 92 دہشت گرد ہلاک کردیے۔ اس طرح گزشتہ دو دنوں میں بلوچستان میں ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی مجموعی تعداد 133 ہو گئی۔آئی ایس پی آر کے مطابق کلیئرنس آپریشنز اور شدید جھڑپوں کے دوران 15 بہادر جوانوں نے بہادری سے لڑتے ہوئے جان کا نذرانہ پیش کیا۔
اینٹلی جنس رپورٹس کے مطابق ان حملوں کی منصوبہ بندی اور ہدایات پاکستان سے باہر موجود دہشت گرد سرغناؤں نے دیں، جو کارروائیوں کے دوران مسلسل دہشت گردوں سے رابطے میں تھے۔ حملوں کے منصوبہ سازوں، سہولت کاروں اور معاونین کو ہر صورت انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق متاثرہ علاقوں میں سینیٹائزیشن آپریشنز بدستور جاری ہیں۔ سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے نیشنل ایکشن پلان کے تحت منظور شدہ وژن “عزمِ استحکام” کے مطابق غیر ملکی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک اپنی کارروائیاں پوری قوت کے ساتھ جاری رکھیں گے۔
بلوچستان میں فورسز کا آپریشن ، 2 دن میں فتنہ الہندوستان کے 133 دہشت گرد جہنم واصل، 15 جوان شہید

