اسلام آباد :وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے پمز ہسپتال نے سابق وزیر اعظم عمران خان کو ’دائیں آنکھ کی بینائی کمزور ہونے کی شکایت‘ پر سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب ایک آپریشن تھیٹر میں طبی علاج فراہم کرنے کی تصدیق کی ہے۔
پمز ہسپتال کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر رانا عمران سکندر کا ویڈیو بیان، جس کی پریس ریلیز ہسپتال کی ویب سائٹ پر بھی موجود ہے، میں بتایا گیا ہے کہ عمران خان نے دائیں آنکھ کی بینائی کمزور ہونے کی شکایت کی تھی جس کے بعد ان کی آنکھ میں سینٹرل ریٹینل وین آکلوژن کی تشخیص کی گئی تھی۔پمز انتظامیہ کے مطابق ہسپتال کے ایک سینیئر اور تربیت یافتہ آپٹامولوجسٹ نے اڈیالہ جیل میں عمران خان کی آنکھوں کا مکمل معائنہ کیا تھا۔ ‘اس معائنے کی بنیاد پر عمران خان کی دائیں آنکھ میں سینٹرل ریٹینل وین آکلوژن کی تشخیص کی گئی اور ہسپتال میں علاج کی تجویز کی گئی۔
اس میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کو علاج کے لیے ‘سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب پمز ہسپتال لایا گیا جس میں مریض کو بتایا گیا کہ انھیں اینٹی وی ای جی ایف انٹرا ویٹریئل انجیکشن لگایا جائے گا۔بیان میں سابق وزیر اعظم کے ‘انفارمڈ کنسنٹ’ کا بھی ذکر ہے۔ پمز انتظامیہ کے مطابق علاج سے قبل عمران خان کو ‘معلومات کی فراہمی کے بعد ان کی رضامندی حاصل کی گئی۔’
ان کا کہنا ہے کہ یہ علاج ‘طریقہ کار کے مطابق آپریشن تھیٹر میں کیا گیا جس میں تقریبا 20 منٹ لگے۔’
‘علاج کے دوران مریض کی حالت ٹھیک رہی اور انھیں بعد از علاج حفاظتی تدابیر کے ساتھ ڈسچارج کیا گیا
سینٹرل ریٹینل وین آکلوژن کیا ہے؟
برطانیہ میں صحت عامہ کے ادارے این ایچ ایس کی ویب سائٹ کے مطابق معمر افراد میں بینائی کمزور ہونے کی عمومی وجہ ریٹینل وین آکلوژن یعنی پردۂ چشم کی نس میں رکاوٹ پیدا ہونا ہے جس سے وہاں خون کا لوتھڑا بن سکتا ہے۔
آنکھ کے کالے حصے کے پیچھے واقع پتلی تہہ ریٹینا کہلاتی ہے جو کہ پرانے وقتوں کے کیمروں کی فلم جیسی ہوتی ہے۔ نس میں رکاوٹ پیدا ہونے سے آنکھ سے خون یا دوسرے مائع ریٹینا میں لیک ہوتے ہیں جس سے زخم بنتے ہیں، سوجن ہوتی ہے یا آکسیجن کی قلت بھی ہوتی ہے۔ یوں روشنی جذب کرنے والی خلیات کے کام میں خلل پیدا ہوتی ہے اور بینائی کمزور ہوتی ہے۔
این ایچ ایس کے مطابق یہ حالت 60 سال سے کم عمر افراد میں عام نہیں ہے۔
ریٹینل وین آکلوژن کی دو اقسام ہیں جن میں سے ایک سینٹرل رینیٹل وین آکلوژن کہلاتی ہے جس میں رکاوٹ مرکزی نس میں پیدا ہوتی ہے۔ این ایچ ایس کے مطابق اس حالت میں بینائی زیادہ بُری طرح متاثر ہوتی ہے۔
این ایچ ایس کی ویب سائٹ کے مطابق اس حالت کی وجوہات میں ہائی بلڈ پریشر، ہائی کالیسٹرول، گلاکوما، ذیابیطس، سگریٹ نوشی اور خون کی نایاب بیماریاں شامل ہیں۔
ماہرین کی رائے ہے کہ اس حالت کی جلد تشخیص ضروری ہے تاکہ اس کا علاج ممکن ہو سکے۔

