تحریر:سہیل احمد رانا
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتا ہے

واقعہ کچھ یوں ہے کہ ایک عوامی تقریب کے دوران، جہاں سیکیورٹی کا پہرہ اور افسرِ شاہی کا رعب و دبدبہ عروج پر تھا، ایک کمسن بچے نے پانی پینے کی خواہش ظاہر کی۔ روایت یہ کہتی ہے کہ ایسے موقع پر کوئی جونیئر اہلکار یا خدمت گار لپک کر پانی لاتا، لیکن ڈی آئی جی سجاد خان نے ثابت کیا کہ "بڑا” وہ نہیں جس کے پیچھے لوگوں کی قطار ہو، بلکہ بڑا وہ ہے جس کا دل انسانیت کے لیے دھڑکتا ہو۔ انہوں نے تمام تر پروٹوکولز کو بالائے طاق رکھتے ہوئے خود گلاس اٹھایا، اس میں پانی ڈالا اور ایک خادم کی طرح اس ننھے بچے کو پیش کیا۔
اس منظر کا دوسرا اور سب سے پر اثر پہلو وہ تھا جب بچے نے گلاس ہاتھ میں لیا۔ آج کل کی بھاگ دوڑ اور محفلوں کے آداب میں ہم اکثر بھول جاتے ہیں کہ پانی پینے کا اسلامی طریقہ کیا ہے۔ مگر اس معصوم بچے نے مجمعے کی پرواہ کیے بغیر، سنتِ نبوی ﷺ کی پیروی کرتے ہوئے فوراً زمین پر بیٹھ کر پانی پینا شروع کیا۔
یہ لمحہ ان تمام بڑوں کے لیے ایک تازیانہ تھا جو سہولت اور ماڈرن ازم کے نام پر کھڑے ہو کر پانی پینے کو عیب نہیں سمجھتے۔ اس بچے نے ثابت کر دیا کہ اگر بنیادوں میں سنت کا بیج بویا گیا ہو، تو ماحول چاہے کتنا ہی پرتعیش کیوں نہ ہو، انسان اپنی اصل نہیں بھولتا۔
ایک اعلیٰ سرکاری افسر کا یہ رویہ بتاتا ہے کہ اصل طاقت لوگوں پر حکم چلانے میں نہیں بلکہ ان کے دلوں میں جگہ بنانے میں ہے۔ عاجزی وہ زیور ہے جو منصب کو چار چاند لگا دیتا ہے۔
اس بچے کے والدین اور اساتذہ خراجِ تحسین کے مستحق ہیں جنہوں نے اسے اس چھوٹی سی عمر میں سنت کا اتنا پابند بنایا کہ وہ پروٹوکول کے حصار میں بھی اپنے نبی ﷺ کی تعلیمات پر قائم رہا۔
مسلم معاشرے کے لیے یہ منظر ایک خاموش سوال ہے۔ اگر ایک بااختیار افسر غرور کو مات دے کر جھک سکتا ہے، اور ایک چھوٹا سا بچہ بھری محفل میں سنت کو یاد رکھ سکتا ہے، تو ہم بحیثیت مجموعی اپنے کردار میں یہ تبدیلی کیوں نہیں لا سکتے؟ شاید ہمارے معاشرے کی اصلاح کا راستہ کسی بڑے سیاسی انقلاب سے نہیں، بلکہ اسی عاجزی اور سنت کی پیروی سے نکلتا ہے جو پانی کے اس ایک گلاس میں نظر آئی۔

