واشنگٹن: امریکی محکمہ انصاف ایپسٹین فائلز سے منسلک 50 ہزار غائب دستاویزات کو تلاش کر جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔کانگرس کمیٹی نےاٹارنی جنرل پام بونڈی کو طلب کرلیا
یہ صدر ٹرمپ کے لیے پریشان کرنے والی خبر ہے، کیونکہ دعویٰ یہی کیا جا رہا ہے کہ غائب دستاویزات میں ٹرمپ کا ہی نام ہے۔
اٹارنی جنرل پام بونڈی پر غائب دستاویزات کو لے کر گمراہ کرنے کا الزام ہے۔ ان کا بیان سرکردہ کانگریس کمیٹی کے سامنے ریکارڈ ہونا ہے۔ بونڈی کمیٹی کے سامنے وہ راز اگل سکتی ہیں جو اب تک منظرنامہ سے غائب بتائے جا رہے ہیں۔ ظاہر ہے ڈونالڈ ٹرمپ کے لیے یہ مشکل میں ڈالنے والا ثابت ہو سکتا ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق امریکی محکمہ انصاف کے پاس ایپسٹین فائلز سے متعلق مجموعی طور پر 6 لاکھ دستاویزات ہیں۔ ان میں سے اب تک 3 لاکھ دستاویزات ہی جاری کیے گئے ہیں۔ عدالت کی ہدایت کے بعد محکمہ انصاف کو 3 لاکھ مزید دستاویزات جاری کرنے ہیں۔ اب محکمہ انصاف نے تقریباً 50 ہزار دستاویزات کو جاری کرنے کی تیاری کر لی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جو دستاویزات جاری ہونے والے ہیں، اسے پہلے غائب بتایا جا رہا تھا۔ لیکن امریکی کانگریس کے اراکین پارلیمنٹ کی سخت کے بعد محکمہ انصاف نے اسے جاری کرنے کے لیے پیش قدمی کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگلے ہفتہ تک ان سبھی دستاویزات کو جاری کیا جا سکتا ہے۔ ایپسٹین فائلز کے ان دستاویزات کو اس لیے بھی اہم تصور کیا جا رہا ہے کیونکہ ان میں صدر ٹرمپ کو لے کر بھی دستاویز ہونے کا امکان ہے۔ ٹرمپ ایک وقت میں جنسی استحصال کے مجرم جیفری ایپسٹین کے دوست تھے۔
قابل ذکر ہے کہ پام بونڈی اب تک کچھ بھی انکشاف نہیں کر رہی تھیں، لیکن اب امریکی ہاؤس نے بونڈی کو نوٹس بھیجا ہے۔ ہاؤس میں باقاعدہ اس تعلق سے ووٹنگ بھی ہوئی، جس میں 24 اراکین نوٹس بھیجنے کے حق میں تھے۔ 19 اراکین بونڈی سے سوال پوچھنے کو مناسب نہیں سمجھتے تھے، لیکن یہ تعداد کم پڑ گئی۔ اب بونڈی کو کمیٹی کےس امنے پیش ہونا پڑے گا۔ وہاں پر انھیں ہر ان سوالات کے جواب دینے ہوں گے، جو ان سے پوچھے جائیں گے۔ جواب نہ دینے پر ان کے خلاف کارروائی بھی ہو سکتی ہے۔
جنگ میں پھنسے صدر ٹرمپ کیلئے بڑی مشکل ،ایپسٹین فائلز کی 50 ہزار گمشدہ دستاویزات کوجاری کرنیکا فیصلہ، اٹارنی جنرل پام بونڈی کانگریس طلب

