اسلام آباد :حکومتِ پاکستان نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں فی لیٹر 55 روپے اضافہ کر دیا ہے۔ملک کے مختلف شہروں میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد پٹرول پمپوں پر شہری لمبی قطاروں میں کھڑے ہیں اور کئی گھنٹے انتظار کرنے پر مجبور ہیں۔
جمعے کی رات کو مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے اعلان کیا کہ عالمی منڈی میں قیمتوں میں بڑے اضافے کے باعث پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 55 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت ملک کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔
قیمتوں میں اضافے کے بعد پٹرول کی فی لیٹر نئی قیمت 321 روپے اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی فی لیٹر نئی قیمت 335 روپے مقرر کیا گیا ہے۔
نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات 12 بجے سے ہوگا۔علی پرویز ملک کے مطابق سعودی آرامکو نے بھی ینبع پورٹ سے بڑے جہاز کے ذریعے پیٹرولیم مصنوعات پاکستان کے سمندری حدود تک پہنچانے کی یقین دہانی کرائی ہے، جبکہ پاکستان کے دو جہازینبع اورفجیرہ پورٹ کی جانب روانہ ہو چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں توانائی کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یکم مارچ کو جب پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر نظرِ ثانی کی گئی تو اس وقت پیٹرول کی قیمت 78 ڈالر فی بیرل جبکہ ڈیزل کی قیمت 88 ڈالر فی بیرل تھی۔ تاہم 6 مارچ تک پیٹرول کی قیمت بڑھ کر 106 ڈالر 80 سینٹ جبکہ ڈیزل کی قیمت تقریباً 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی ہے۔
وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں حکومت کو قیمتوں میں اضافہ کرنے کا مشکل فیصلہ کرنا پڑا۔
انہوں نے مزید کہا کہ جیسے ہی عالمی مارکیٹ میں صورتحال بہتر ہوگی، قیمتوں کو دوبارہ کم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
اس موقع پر نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ آج پیٹرولیم مصنوعات کی دستیابی اور قیمتوں کے حوالے سے قائم کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ کمیٹی نے کوشش کی ہے کہ عوام پر کم سے کم بوجھ ڈالا جائے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بتایا کہ کمیٹی کی روزانہ بنیاد پر میٹنگ ہوتی ہے جس میں سپلائی، ذخائر اور قیمتوں کا جائزہ لیا جاتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت پاکستان کے پاس پیٹرولیم مصنوعات کا کافی ذخیرہ موجود ہے۔
وزیر خزانہ کے مطابق وہ اور وزیر پیٹرولیم آئندہ دو دنوں میں صوبائی وزرائے اعلیٰ اور چیف سیکریٹریز سے ملاقات کریں گے اور انہیں موجودہ صورتحال سے آگاہ کریں گے۔پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے بعد ملک بھرکے شہروں میں پمپوں پر شہری شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ کراچی کے متعدد علاقوں، بشمول شاہراہِ فیصل میں پٹرول پمپ بند ہونے کے باعث گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی طویل قطاریں لگ گئیں۔
قیمتوں میں اضافے کے اعلان سے قبل ہی کراچی کے مختلف علاقوں میں پیٹرول پمپ بند ہونا شروع ہو گئے تھے اور شہریوں نے بڑی تعداد میں پیٹرول پمپوں کا رخ کیا، قیمتوں میں اچانک اضافے کے بعد شہر بھر کے مختلف پیٹرول پمپوں پر شہریوں کا تانتا بندھا ہوا ہے۔
شہری کئی گھنٹے انتظار کرنے پر مجبور ہیں اور بعض پمپ مالکان اضافی قیمت وصول کرنے کے الزامات کا سامنا کر رہے ہیں۔
اسلام آباد میں شہری پٹرول پمپوں پر طویل قطاروں میں کھڑے ہیں۔ انتظامیہ نے عوام کے لیے کنٹرول روم نمبر 0519108084 جاری کر دیا ہے تاکہ شہری کسی بھی شکایت یا معلومات کے لیے رابطہ کر سکیں۔
حکومت کی جانب سے ڈیزل اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے اعلان کے بعد لاہور کے مختلف پٹرول پمپس پر رش لگ گیا، شہری مہنگا پیٹرول بھی لائنوں میں لگ کر لے رہے ہیں۔
خیرپور میں بھی شہریوں کے لیے پٹرول مہیا کرنے والے پمپ بند ہیں اور جہاں پٹرول دستیاب ہے وہاں بھی شہری 300 روپے سے زیادہ دے کر پٹرول حاصل نہیں کر سکتے۔
شہریوں نے حکومت سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے کہ ملک بھر میں پیٹرول اور ڈیزل کی فراہمی کے بحران کو جلد حل کیا جا سکے۔ رمضان المبارک کے مہینے میں لوگ پہلے ہی بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے پریشان تھے اور اب پیٹرول کی قیمت اچانک بڑھا کر ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا گیا ہے۔
مہنگائی کا ایٹم بم گرا دیا گیا، پٹرول کی قیمت میں 55 روپے لٹر اضافہ، لمبی قطاریں، پمپوں پر شہری ذلیل وخوار ہونے لگے

