سرینگر: مقبوضہ جموں و کشمیر کے سینئر سیاسی اور مذہبی رہنما میرواعظ ڈاکٹر عمر فاروق کو ایک بار پھر گھر پر نظر بند کر دیا گبا نماز جمعہ بھی ادا نہ کرسکے،بھارت کی فسطائی حکومت کے دباؤ کے بعدڈ سماجی رابطے کی سائٹ ایکس کے اپنے تصدیق شدہ پروفائل سے چیئرمین کل جماعتی حریت کانفرنس یا اے پی ایچ سے کی شناخت ہٹادی ہے۔
میر واعظ نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ، کچھ عرصے سے، حکام کی طرف سے مجھ پر حریت چیئرمین کی حیثیت سے اپنے ایکس(سابقہ ٹویٹر) ہینڈل میں تبدیلیاں کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا تھا، کیونکہ حریت کانفرنس کے تمام حلقوں بشمول عوامی ایکشن کمیٹی جس کا میں سربراہ ہوں، یو اے پی اے کے تحت پابندی عائد کر دی گئی ہے، حریت کو ایک کالعدم تنظیم بنا دیا گیا ہے، ایسا نہ کرنے پر وہ میرا ہینڈل ختم کر دیں گے۔
For some time now, I was being pressed by the authorities to make changes to my X (formerly Twitter) handle as Hurriyat chairman, as all constituents of Hurriyat Conference, including the Awami Action Committee that I head have been banned under the UAPA, making Hurriyat a banned…
— Mirwaiz Umar Farooq (@MirwaizKashmir) December 26, 2025
میر واعظ نے مزید نے کہا کہ، ایک ایسے وقت میں جب عوامی جگہ اور مواصلات کے راستے سخت محدود ہیں، یہ پلیٹ فارم میرے پاس اپنے لوگوں تک پہنچنے اور ان کے ساتھ اور بیرونی دنیا کے ساتھ ہمارے مسائل پر اپنے خیالات کا اشتراک کرنے کے لیے دستیاب بہت کم ذرائع میں سے ہے۔ ایسے حالات میں، یہ میرے لئے ہوبسن چوائس ہے۔ (ہابسن چوائسr انگریزی اصطلاح ہے۔ اس کا مطلب ہے آپ کے پاس صرف ایک ہی انتخاب کرنا ہوتا ہے جہاں درحقیقت کوئی حقیقی متبادل نہیں ہوتا)
دوسری طرف میرواعظ منزل نے اپنے ایکس پوسٹ میں تصدیق کرتے ہوئے کہا: ’’حکام نے میرواعظ عمر فاروق کو آج ایک بار پھر گھر میں نظر بند کر دیا ہے، اور انہیں سرینگر کی تاریخی جامع مسجد میں خطبہ دینے اور نماز جمعہ ادا کرنے سے روک دیا ہے۔‘‘


