اسلام آباد:پاکستان کے شمالی علاقہ جات کے دور افتادہ علاقوں میں ڈیجیٹل دور کی نئی تاریخ رقم ہو گئی ہے۔ دشوار گزار پہاڑی جغرافیہ کے باوجود اسپیشل کمیونیکیشن آرگنائزیشن (ایس سی او) نے ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی کو قومی ترجیحات میں شامل کرتے ہوئے گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر میں جدید نیٹ ورک کی فراہمی یقینی بنائی ہے، جو خطے کی سماجی و معاشی ترقی میں نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔
نجی کمپنیوں کی عدم دلچسپی کے برعکس ایس سی او نے ناقابلِ رسائی علاقوں تک نیٹ ورک پہنچایا اور بلند و بالا پہاڑی سلسلوں میں ہائی الٹیٹیوٹ ٹاورز نصب کر کے مواصلاتی تاریخ میں نئی مثال قائم کی۔ ڈیجیٹل دور کے منصوبے نیکسٹ جنریشن موبائل سروسز (این جی ایم ایس) کے فیز فور کے تحت 4G اور 5G کی فراہمی کے بعد ایس سی او کا کردار مزید مستحکم ہو گیا ہے، جبکہ 4G اور بعد ازاں 5G نیٹ ورک کے باقاعدہ آغاز کی راہ بھی ہموار کر دی گئی ہے۔
جدید فائبر آپٹک اور بیک ہال نیٹ ورک کے ذریعے شمالی علاقوں میں ڈیٹا اسپیڈ اور سروس کوالٹی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی میں اضافے سے مقامی نوجوانوں کے لیے آن لائن تعلیم اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں، جبکہ ایس سی او کی سرمایہ کاری عوامی ضرورت اور ریاستی ذمہ داری کی عکاسی کرتی ہے۔
ایس سی او کی ٹیکنالوجی اپگریڈیشن نے گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کو عالمی ڈیجیٹل نظام کے ساتھ براہ راست جوڑ دیا ہے، جس کے نتیجے میں مقامی معیشت، ای کامرس اور فری لانسنگ کے مواقع فروغ پا رہے ہیں اور نوجوان اپنے دیہی اور دور افتادہ علاقوں میں رہتے ہوئے بھی کاروباری سرگرمیوں میں حصہ لے سکیں گے۔

