دبئی : دبئی ایئر شو 2025 کے موقع پر سربراہ پاک فضائیہ ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی دوست ممالک کے فضائی سربراہان سے سلسلہ وار اعلیٰ سطحی ملاقاتیں ہوئیں۔دبئی ایئر شو میں پاکستان کی آن اور شان مختلف ملکوں نے جے ایف 17تھنڈرلڑاکا طیاروں کی خریداری میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے ۔
آئی ایس پی آر کے مطابق دبئی ائیر شو میں ایک دوست ملک کے ساتھ جے ایف سیونٹین تھنڈر لڑاکا طیارے کی خریداری سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر دستخط بھی ہوئے ہیں ۔پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو بھی متحدہ عرب امارات کے دورے کےدوران انہوں نے دبئی ائیر شو میں بھی شرکت کی۔اس موقع پر ائیر چیف نے دوست ملکوں کے فضائی سربراہوں سے ملاقاتیں بھی کیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سربراہ پاک فضائیہ نے متحدہ عرب امارات کے انڈر سیکرٹری برائے دفاع لیفٹیننٹ جنرل پائلٹ ابراہیم ناصر العلاوی اور کمانڈر یو اے ای ائیر فورس اینڈ ائیر ڈیفنس میجر جنرل راشد محمد الشمسی سے بھی جامع ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں کا محور اعلیٰ تربیت کے شعبوں میں تعاون کا فروغ، ابھرتی ہوئی ایرو اسپیس ٹیکنالوجیز میں اشتراک اور آپریشنل ہم آہنگی کے نظام کو مزید موثر بنانا رہا۔
اماراتی عسکری قیادت نے پاک فضائیہ کی جدت طرازی، بڑھتی ہوئی مقامی صلاحیتوں اور مقامی ترقی کو سراہتے ہوئے مشترکہ مشقوں، پیشہ ورانہ تبادلوں اور مستقبل کی بین العسکری شراکت داریوں کو مزید استوار کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
آئی ایس پی آر کاکہناہے کہ پاکستان ایئر فورس کا دستہ دبئی ایئر شو 2025 میں شرکت کے لیے متحدہ عرب امارات میں موجود ہے۔ یہ شرکت پاکستان ایئر فورس کی پیشہ ورانہ صلاحیت، عالمی فضائی برادری کے ساتھ مضبوط روابط اور خطے میں امن و استحکام کے عزم کی نمایاں ترجمانی کرتی ہے۔
ایئر شو کے دوران جے ایف–17 تھنڈر بلاک تھری طیارہ خصوصی توجہ کا مرکز رہا جہاں دفاعی تجزیہ کاروں، ہوا بازی کے ماہرین و شایقین نے اس میں گہری دلچسپی ظاہر کی۔ جدید ٹیکنالوجی، مضبوط جنگی صلاحیتوں اور معرکہء حق میں اس کی ثابت شدہ عملی کارکردگی نے جے ایف–17 تھنڈر کو ایک قابلِ اعتماد اور کم لاگت کثیر المقاصد لڑاکا طیارے کے طور پر مزید نمایاں کیا ہے۔
پاکستان کی ایوی ایشن انڈسٹری پر بڑھتے ہوئے بین الاقوامی اعتماد کے باعث مختلف ممالک نے جے ایف–17 تھنڈر میں دلچسپی کا اظہار کیا۔ اس موقع پر ایک دوست ملک کے ساتھ جے ایف–17 تھنڈر کی خریداری سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط کیے گئے جو پاکستان کے بڑھتے ہوئے دفاعی اور صنعتی تعاون میں ایک نمایاں سنگِ میل ہے۔ یہ معاہدہ طیارے کی عالمی مقبولیت اور پاکستان کی ایرو اسپیس صلاحیتوں پر مستقل بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔

