لاہور(بے نقاب رپورٹ) لاہور کے علاقے گرین ٹاؤن میں مفت کھانا نہ دینے پر اوباش نوجوان امجد نے 12 ساتھیوں کے ہمراہ ہوٹل پر دھاوا بول دیا۔ گرم دودھ عبداللہ اور عمر شہزاد پر پھینک کر انہیں جھلسا دیا جبکہ ایک ملزم نے تیز دھار چاقو سے نصیب زادہ اور گل شاہد پر حملے کیے، جس سے دونوں شدید زخمی ہوگئے ۔
مبینہ طور پر ملزمان نے کھانے پینے کا سارا سامان فرش پر الٹ دیا اور ایک زخمی کا موبائل اور دراز سے 55 ہزار اٹھا کر فرار ہو گئے ۔زخمیوں کو طبی امداد کے لئے جناح ہسپتال منتقل کر دیا ۔ گرین ٹاون آپریشن پولیس کی مبینہ غفلت، تاخیری حربوں اور طمعِ نفسانی نے اس مظلوم اور محنت کش، غریب خاندان کی زندگی اجیرن بنا دی پولیس کو دی گئی درخواست پر مقدمہ درج نہ ہوا کیونکہ ملزمان بلیئرڈ کلب چلاتے ہیں انکی سفارش کے باعث معاملہ کو طول دیا بعدازاں پولیس کو فرنٹ ڈیسک پر درخواست دینے کے بعد ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔ لیکن کوئی کارروائی عمل میں نہ لائی گِئی۔
شانگلہ سے تعلق رکھنے والے گل زر کے مطابق نو عمر بچوں کے ساتھ چلنے والا چھوٹا سا ناشتے کا ہوٹل ظلم، بربریت اور پولیس رویّے کا نشانہ بن گیا۔
گل زر خان آج بھی زخمی بیٹوں کے لیے انصاف کی تلاش میں دربدر ہے مگر پولیس کے دروازے شائد انکے لئے بند ہیں کیا وہ پختون ہیں اسی وجہ سے یا وہ غریب ہیں ؟ وہ اب ایس ایس پی انوسٹی گیشن محمد نوید سے انصاف کی فریاد کر سکتا ہے کیونکہ انہیں ابھی بھی ملزمان سے جان کا خطرہ ہے۔


