وانا:کیڈٹ کالج وانا میں سیکیورٹی فورسزنےتمام 650طلبہ اور اساتذہ کوبحفاظت ریسکیو کرکے فتنہ الخوارج کا حملہ ناکام بنا دیا گیا۔
سیکورٹی ذرائع کے مطابق کیڈٹ کالج وانا میں موجود تمام طلبہ اور اساتذہ کو بحفاظت ریسکیو کر لیا گیا ۔ اب آپریشن جامع طریقے سے حتمی انجام کو پہنچایا جائے گا- آخری خوارج کو جہنم واصل کرنے تک سیکورٹی آپریشن جاری رہے گا ۔ تمام طلبہ اور اساتذہ کے حوصلے بلند ہیں ۔
جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا میں دہشتگردوں نے ایک بار پھر معصوم بچوں کو نشانہ بنانے کی مذموم کوشش کی۔ افغان سرزمین سے آنے والے بھارتی حمایت یافتہ الخوارج نے کیڈٹ کالج وانا کے مرکزی گیٹ پر بارود سے بھری گاڑی ٹکرا دی، جس سے گیٹ مکمل طور پر تباہ ہوگیا اور قریبی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا۔
پاک فوج کے جوانوں نے موقع پر ہی بہادری اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے دو دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا۔ دھماکے کے بعد تین دہشتگرد کالج کے اندر داخل ہوئے جنہیں فورسز نے گھیرے میں لے لیا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق تینوں دہشت گردوں کو ایک علیحدہ عمارت تک محدود کردیا گیا ہے جہاں سے وہ افغانستان میں موجود اپنے ہینڈلرز سے مسلسل رابطے میں ہیں۔
حملے کے وقت کالج میں 525کیڈٹس سمیت تقریباً 650افراد موجود تھے۔ کیڈٹ کالج وانا میں موجود تمام طلبہ اور اساتذہ کو بحفاظت ریسکیو کر لیا گیا ۔
کالج میں زیر تعلیم طلباء کے والدین کا کہنا ہے کہ ہم نے اپنے بچوں کو اس لیے اسکول بھیجا کہ وہ پڑھ لکھ کر کچھ بن جائیں، لیکن یہ ظالم خوارج معصوم بچوں کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان دہشت گردوں کا نہ دین کے ساتھ کوئی تعلق ہے اور نہ انسانیت کے ساتھ۔ ہم سب قبائل دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ان کو ہرصورت اپنے علاقوں سے بے دخل کریں گے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشتگردی کا یہ حملہ بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج نے کیا ہے، جو افغان سرزمین سے کارروائیاں کر رہے ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف عزمِ استحکام کے تحت جاری آپریشن پورے عزم و حوصلے کے ساتھ جاری رہے گا۔ معصوم قبائلی بچوں پر حملہ کرنے والے دہشتگرد نہ اسلام سے تعلق رکھتے ہیں، نہ پاکستان سے۔ دہشتگردی کے مکمل خاتمے تک جنگ جاری رہے گی۔
کیڈٹ کالج وانا میں تعلیم حاصل کرنے والے طلباء کو فتنہ الخوارج کی جانب سے بزدلانہ حملے کا نشانہ بنانے پر مقامی افراد نے بھی شدید ردعمل کا اظہار کیا۔
مقامی افراد نے کہا کہ اس حملے کی کوشش سے یہ واضح ہوگیا کہ دشمن وانا اور قبائلی عوام کو تعلیم سے محروم رکھنا چاہتے ہیں۔

