لاہور: اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان کاکہنا ہے کہ مجوزہ 27ویں آئینی ترمیم میں اس کا جائزہ لینا ہوگا کہ صوبوں کو این ایف سی کی مد میں ملنے والے فنڈز کے بعد کیا وفاق کے بعد اتنی گنجائش رہ جاتی ہے کہ وہ اپنے معاملات کو چلا سکے، ہمارا مقدمہ ستائیسویں ترمیم میں ضلعی حکومتوں کو آئینی تحفظ فراہم کرنا ہے اور کسی کو اس پر اعتراض نہیں ہونا چاہیئے۔
پنجاب اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو میں سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان کاکہنا تھاکہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم پر کام شروع ہو چکا ہے ہمارا مقدمہ بلدیاتی اداروں سے وابستہ ہے جس کےلئے پنجاب اسمبلی سے تمام جماعتوں کے ارکان نے متفقہ قرارداد منظور کی تھی، ان کاکہنا تھاکہ جس طرح وفاق اور صوبائی حکومتوں کا آئینی تحفظ حاصل ہے ایسے ہی وہ چاہتے ہیں کہ مقامی حکومتوں کو بھی تحفظ حاصل ہواور امید کرتے ہیں اس آئینی ترمیم پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا، ان کاکہنا تھاکہ اگر یہ معاملہ 27ویں آئینی ترمیم میں شامل نہیں کیا جاتا تو بعد میں بھی کیا جا سکتا ہے، ایک سوال کے جواب میں ملک محمد احمد خان نے کہاکہ جن جرائم کی بنیاد بانی تحریک انصاف جیل میں ہیں ان جرائم کو جانچنا بھی ضروری ہے وہ کسی سیاسی لیڈر کو قید میں رکھنے کے حق میں نہیں مگر کوئی یہ خواہش کرے کہ میرا گھر جلا دے یا تاریخی ورثوں کو جلا دے تو پھر بھی اسے آزادی ملنی چاہیئے اس پر بات ہونی چاہیئے، ان کاکہنا تھاکہ مجوزہ آئینی میں صوبوں کو این ایف سی کی مد میں فنڈز ملنے کے بعد کیا وفاق اپنے معاملات چلا سکتا ہے یا نہیں اس کا ایک حل یہ موجود ہے کہ وفاق نے جو قرض کی ادائیگیاں کرنی ہے اس میں صوبے اپنا حصہ ڈالیں،

