اسلام آباد:پاکستان نے افغان طالبان کا پروپیگنڈہ مسترد کردیا جب کہ وزیر دفاع خواجہ آصف نے افغان ترجمان کے بیانات کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام بھارتی پراکسیز سے واقف ہیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر اپنی پوسٹ میں خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ افغان ترجمان کی جانب سے بدنیتی پر مبنی اور گمراہ کن تبصروں پر واضح کرنا چاہتا ہوں کہ افغانستان کے حوالے سے پاکستان کی سیکیورٹی پالیسیوں پر تمام پاکستانیوں بشمول ملک کی سیاسی اور عسکری قیادت میں مکمل اتفاق رائے موجود ہے۔
پاکستان نے افغان طالبان کے ترجمان کا بیان گمراہ کن قرار دے کر مسترد کردیا ۔ وزارت اطلاعات و نشریات کے مطابق استنبول مذاکرات سے متعلق حقائق کو افغان طالبان رجیم کے ترجمان نے توڑ مروڑ کر پیش کیا۔
وزارت اطلاعات و نشریات نے کہا ہے کہ پاکستان نے افغان سرزمین پر موجود دہشتگردوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔افغان فریق کے دعوے پر پاکستان نے فوری طور پر تحویل کی پیشکش کی۔پاکستان کا مؤقف واضح، مستقل اور ریکارڈ پر موجود ہے۔پاکستان کے خلاف غلط بیانی قبول نہیں ہے۔ افغانستان کی جانب سے جھوٹے دعوے حقائق کے منافی ہیں۔
پاکستان نے واضح کیا کہ دہشتگردوں کی حوالگی سرحدی اینٹری پوائنٹس سے ممکن ہے۔کسی بھی متضاد دعوے کو بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیتے ہیں۔وزارتِ اطلاعات نے مزید کہا کہ پاکستان کے مؤقف کو غلط انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔
دوسری طرف خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پاکستانی عوام بالخصوص خیبر پختونخوا کے لوگ، افغان طالبان رجیم کی طرف سے بھارت کی سرپرستی میں ہونے والی وحشیانہ دہشت گردی سے پوری طرح آگاہ ہیں اور اس کے ارادے یا طرز عمل کے بارے میں کوئی وہم نہیں رکھتے۔
انہوں نے کہا کہ ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ غیر نمائندہ افغان طالبان رجیم ہے جو اندرونی دھڑے بندی کا شکار ہے، اور وہ افغان نسلوں، خواتین، بچوں اور اقلیتوں پر مسلسل جبر کی ذمہ دار ہے، جب کہ عوام کے بنیادی حقوق اظہار رائے ، تعلیم اور نمائندگی کے بنیادی حقوق کو بھی سلب کر رہی ہے۔

