Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      آئی فون 17 کی قیمتوں میں تاریخی کمی، سستے داموں خریدنے کا سنہری موقع

      کاپی پیسٹ کرنے والوں کی شامت آ گئی! ’ایکس‘ نے کمائی کا نیا اور سخت نظام متعارف کرا دیا

      جرمنی کی خلائی میدان میں نئی تاریخ رقم

      زمین اور چاند کے درمیان ممکنہ تنازعات سے متعلق اہم انکشاف

      اسکول طلبہ کے لیے جنریٹو اے آئی ، چیٹ بوٹس کے استعمال پر پابندی، اسکرین ٹائم بھی محدود

    • بلاگ
    • ویڈیوز

        بھٹ شاہ رورل ہیلتھ سینٹر کی  غفلت سے خاتون اور نومولود جاں بحق

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں ضلع بھر میں مختلف تقریبات کا سلسلہ جاری

      ہیومین ویلفیئر آرگنائزیشن پاکستان کے زیر اہتمام ریلی نکالی گئی

      عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ اور جامع مدرسہ منصورہ ہالا کے مشترکہ تعاون سے مفت میڈیکل کیمپ کا انعقاد

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں مغل ویلفیئر اتحاد ہالا کی جانب سے ریلی نکالی گئی

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    انجنئیر محمد علی مرزا بڑی مشکل میں، اسلامی نظریاتی کونسل نے فیصلہ سنا دیا

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    اسلام آباد :اسلامی نظریاتی کونسل نے اپنے اجلاس میں ایک  اہم فیصلہ لیتے ہوئے معروف مذہبی سکالر انجینیئر محمد علی مرزا کو گستاخی کا ملزم قرار دیتے ہوئے ان پر عائد دفعات میں توہینِ قرآن کی دفعہ بھی شامل کرنے کا کہا ہے۔
    اس حوالے سے اسلامی نظریاتی کونسل نے محمد علی مرزا پر عائد ایف آئی آر کا جائزہ لیا۔

    محمد علی مرزا کا بیان فساد فی الارض قرار

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ محمد علی مرزا كا بیان فساد فى الارض پھىیلانے كا باعث ہے۔ کونسل نے محمد علی مرزا سے متعلق فیصلے میں قرآن کی آیت کا حوالہ بھی دیا اور کہا کہ اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ قرآن و سنت میں بھی بعض کفریہ الفاظ نقل ہوئے ہیں، مگر یہ بات ادھوری پیش کی جاتی ہے، حقیقت یہ ہے کہ جب ان تمام مقامات کو دیکھا جائے تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہاں ان الفاظ کو کسی تائید کے طور پر نہیں بلکہ بطور رد، انکار اور سخت تنبیہ کے ذکر کیا گیا ہے۔

    پاکستان کی مسیحی برادری کو مراسلہ بھیجنے کا فیصلہ

    پاکستان کی مسىیحى برادری کو ایک مراسلہ بھیجا جائے گا کہ وہ تحریری طور پر واضح کریں کہ مرزا محمد علی نے شان رسالت کے بارے میں جو الفاظ کہے کیا ان كى مقدس كتابوں میں اور اجتماعى طور پر ان كى یہ رائے ہے كہ نہیں؟‘اسلامی نظریاتی کونسل نے کہا ہے کہ مسیحی برادری کے جواب کے بعد ہی تفصیلی فیصلہ مرتب کیا جائے گا۔

    انجنئیر محمد علی مرزا کیخلاف مقدمہ ، کب کیا ہوا؟

    یادرہے ایک ماہ پہلے 26 اگست کو جہلم کے تھانہ سٹی میں معروف مذہبی سکالر انجینیئر محمد علی مرزا کے خلاف شہری کی درخواست پر توہینِ مذہب کا مقدمہ درج کیا گیاتھا۔

    پولیس کے مطابق مقدمہ دفعہ 295 سی کے تحت درج کیا گیا ہے۔ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295 سی پیغمبرِ اسلام اور مذہبِ اسلام کی توہین پر لگائی جاتی ہے جس کی سزا پاکستان کے قانون کے مطابق سزائے موت ہے۔

    جہلم کے مقامی صحافیوں کے مطابق انتظامیہ نے ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے محمد علی کی اکیڈمی کو سیل کر دیا ہے اور اکیڈمی اور ان کے گھر کے باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔

     انجنئیر مرزا محمد علی اب کہاں ہیں ؟

    خیال رہےانجینیئر محمد علی کو  جہلم میں حراست میں لیا گیا تھا اور ڈپٹی کمشنر کے حکم پر انھیں تھری ایم پی او کے تحت مقامی جیل میں نظربند کیا گیا تھا۔ تاہم بعد ازاں انہیں اڈیالہ جیل جہاں تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان قید ہیں وہاں منتقل کردیا گیا۔

     تھری ایم پی او کا قانون 
    تھری ایم پی او کا قانون پاکستان میں حکومت کو ایسے افراد کی حفاظتی حراست کے لیے وسیع اختیارات دیتا ہے جنھیں عوامی تحفظ یا نظم کے لیے خطرہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ قانون ایک طے شدہ مدت کے لیے کسی بھی شخص کی گرفتاری اور نظربندی کی اجازت دیتا ہے، جسے بڑھایا جا سکتا ہے تاہم یہ حراست ایک وقت میں لگاتار چھ ماہ سے زیادہ نہیں ہو سکتی تاہم، تین ماہ سے زیادہ طویل حراست کے لیے عدالتی نگرانی کی ضرورت ہوتی ہے۔

    انجنئیر محمد علی مرزا  نوجوانوں میں اور سوشل میڈیا پر مقبول
    نجینیئر محمد علی مرزا پاکستان کے ایک معروف مبلغ ہیں جو اپنے غیر روایتی نظریات کی بنا پر اکثر زیرِ بحث رہتے ہیں اور مئی 2020 میں بھی انھیں مبینہ طور پر مذہبی شخصیات کی گستاخی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا تاہم بعدازاں عدالت نے انھیں رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔

    اپنے غیرروایتی نظریات اور مذہبی خیالات کے باعث اُن پر ماضی میں قاتلانہ حملے بھی ہوئے جس میں وہ محفوظ رہے ہیں۔

    جہلم پولیس کے مطابق مارچ 2021 میں ہوئے چاقو کے ایک حملے میں اُن کے بازو پر زخم آیا تھا، تاہم وہ اس حملے میں محفوظ رہے تھے۔ اسی طرح سنہ 2017 میں ہونے والے ایک قاتلانہ حملے میں بھی وہ محفوظ رہے تھے۔

    جہلم سے تعلق رکھنے والے انجینیئر محمد علی مرزا اسی شہر میں واقع اپنے مدرسے میں مختلف مذہبی موضوعات پر گفتگو کرتے ہیں جس کے دوران لوگوں کے سوالوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔

    اُن کے اپنے یوٹیوب چینل پر موجود 2471 سے زائد ویڈیوز لاکھوں مرتبہ دیکھی جا چکی ہیں اور اُن کے سبسکرائبرز کی تعداد 31 لاکھ سے زیادہ ہے۔

    متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے انجینیئر محمد علی مرزا کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ اُن کی سب سے بڑی قوت یہ ہے کہ وہ کسی مذہبی یا سیاسی گروہ سے اپنا تعلق ظاہر نہیں کرتے چنانچہ وہ آزادی سے اپنے مؤقف کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں۔

    وہ اپنے بارے میں بھی کہتے ہیں کہ اُن کا تعلق کسی مسلک سے نہیں اور اُن کا نعرہ ہے کہ ’میں ہوں مسلم علمی کتابی۔۔

    اسلامی نظریاتی کونسل 

    یہ پاکستان کا آئینی ادارہ ہے۔ 1973ء کے آئین میں جب شق نمبر 227 شامل کی گئی جس کے مطابق پاکستان میں کوئی بھی قانون قرآن وسنت کے مخالف نہیں بنایا جائے گا تو عملاً اس کا باقاعدہ نظام وضع کرنے کی غرض سے اسی آئین میں دفعہ نمبر 228، 229 اور 230 میں اسلامی نظریاتی کونسل کے نام سے 20 اراکین پر مشتمل ایک آئینی ادارہ بھی تشکیل دیا گیا جس کا مقصد صدر، گورنر یا اسمبلی کی اکثریت کی طرف سے بھیجے جانے والے معاملے کی اسلامی حیثیت کا جائزہ لے کر 15 دنوں کے اندر اندر انھیں اپنی رپورٹ پیش کرنا تھا۔

    آئین کے مطابق اسلامی نظریاتی کونسل کے ارکان کو اہل ہونا چاہیے۔ اس میں لکھا ہے کہ کونسل میں کم از کم دو ریٹائرڈ ججوں کی شمولیت لازمی ہے، جن کا اسلامی تحقیق اور تعلیم میں کم از کم 15 سال کا تجربہ ہو۔ اور یہ کہ ارکان کو پاکستان کے معاشی، سیاسی، قانونی، یا انتظامی مسائل کا علم ہو۔تاہم عملی طور پر اس تعریف میں توسیع کر کے اس میں مذہبی پریشر گروپوں کے ایسے لوگ شامل کیے جاتے رہیں جو صرف مدرسوں میں پڑھاتے رہے ہیں جہاں جدید علوم کو کمتر سمجھا جاتا ہے۔

    اسلامی نظریاتی کونسل کی متنازع سفارشات
    ذرائع ابلاغ کے مطابق اسلامی نظریاتی کونسل نے  ایک دفعہ تحفظ حقوق نسواں کے حوالے سے 163 دفعات پر مشتمل تجاویز تیار کیں جن میں بیوی کو ہلکی پھلکی مارپیٹ کی اجازت، مخلوط تعلیم، خاتون نرسوں کی جانب سے مرد مریضوں کی تیمارداری اور فحش اشتہارات میں خواتین کے کام کرنے پابندی کی تجاویز کے علاوہ خواتین کے جائیداد کے حق، مذہب کی تبدیلی اور شادی سے متعلق قوانین کی بھی تجاویز شامل تھیں۔
    اسی طرح کونسل نے 1978 میں تجویز دی تھی کہ پاکستانی جھنڈے پر ’اللہ اکبر‘ کے الفاظ درج ہوں۔ تاہم اس پر کسی نے عمل کی زحمت نہیں کی۔

    1983 میں کونسل نے فیصلہ صادر کیا کہ سیاسی جماعتیں اسلام کی روح کے منافی ہیں اور پارلیمانی نظام کی بجائے صدارتی نظام اسلام سے زیادہ قریب ہے۔

    1990 کی دہائی میں کونسل نے قرار دیا کہ پاکستان کا مالیاتی نظام غیر اسلامی ہے اور کہا کہ اسے بدل کر نفع نقصان کی شراکت پر مبنی نظام نافذ کیا جائے۔

    اسلامی نظریاتی کونسل کے سفارشات پر عمل درآمد

    جہاں کونسل سیاسی اور مالیاتی شعبوں میں زیادہ موثر نہیں رہی، لیکن اس کی آواز عائلی اور سماجی معاملات میں زیادہ سنی گئی ہے۔1970 کی دہائی کے وسط میں جب کونسل نے شراب پر پابندی کا مطالبہ کیا تو سڑکوں پر مظاہرے شروع ہو گئے جن کی وجہ سے وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو جھکنا پڑا۔

    جنوری میں ایک پارلیمانی کمیٹی نے کونسل کی مخالفت کی وجہ سے ایک مجوزہ قانون ترک کر دیا جس کے تحت ملک میں شادی کے لیے کم از کم عمر 16 سال سے بڑھا کر 18 سال طے کی جانا تھی۔

    تاہم کونسل  کی کوشش  تھی کہ شادی کے لیے کم از کم عمر الٹا گھٹا کر لڑکوں کے لیے 12 سال اور لڑکیوں کے لیے نو سال کر دی جائے بشرطیکہ بلوغت کے آثار نمایاں ہو جائیں۔

    تاہم حکومتیں ان تجاویز کو نظرانداز کرتی رہی ہیں، اس لیے اب بھی پاکستان میں شادی کی کم از کم عمر 16 برس ہے۔

    Related Posts

    شہری آج بھی خستہ حال اور غیر معیاری گاڑیوں میں سفر کرنے پر مجبور

    قلمکارہ سلمی ا ملک کو بزم ندرت فکر کی طرف سے” بہترین صحافی ایوارڈ” کی عطائیگی

    حافظ محمد عمران ضلعی صدر نواز شریف فورس پاک پتن کی ڈی ایس پی سرکل عارفوالا سے ملاقات

    مقبول خبریں

    شہری آج بھی خستہ حال اور غیر معیاری گاڑیوں میں سفر کرنے پر مجبور

    منچن آباد ، پولیس مقابلہ،   ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار

    دریا سندھ میں ڈوبنے سے  راہگیر  (فقیر) جاں بحق

    :  شادی سے انکار پر لڑکی کا قتل  ، 17 سال سے زائد عرصہ روپوش ملزم گرفتار

    سیالکوٹ کی تاریخ میں پولیس ملازم کو رشوت دینے کا پہلا مقدمہ

    بلاگ

    لاہور پریس کلب میں عشقِ رسول ﷺ کی خوشبو — خواتین صحافیوں کی یادگار محفلِ میلاد

    ناہید طالب: فن، صلاحیت اور خدمت کا روشن استعارہ

    جنگِ چونڈہ 1965

    "میں لجپالاں دے لڑ لگیاں، میرے توں غم پرے رہندے” — ایک دفتر، ایک روایت اور مثبت سوچ کی خوبصورت صبح

    دہشت گردی کے خونی پنجوں میں سسکتا دیربالا کا دلکش علاقہ دوبندو

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.