Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      آئی فون 18 پرو کیسا، کس رنگ کا ہوگا؟

      انسانوں کی چھٹی، مشینوں کا راج: میٹا میں 16 ہزار ملازمین فارغ، کیا اے آئی (AI) آپ کا روزگار بھی چھین لے گی؟

      سیمسنگ کا نیا پینترا: گلیکسی A27 اب جدید ‘پنچ ہول’ ڈسپلے اور پریمیم لک کے ساتھ، مڈ رینج مارکیٹ میں تہلکہ مچانے کو تیار!

      10 کروڑ سال پرانا معمہ حل: آسٹریلیا کے مشہور ڈائنا سار کا ‘نیا چہرہ’ سامنے آگیا، 1300 ہڈیوں نے تاریخ بدل دی!

      مشرق وسطیٰ جنگ سے ارب پتی بھی متاثر، بلوم برگ نے ارب پتیوں کی عالمی فہرست جاری کردی، پہلے نمبر پر کون؟

    • بلاگ
    • ویڈیوز

      امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن روانہ

      امریکی پائلٹ کیلئے امریکا کا ریسکیو مشن کیسے سرانجام پایا؟ اینی میٹڈ ویڈیو دیکھئیے

      خارگ جزیرے پر ممکنہ امریکی حملہ ، لیگو ویڈیو جاری

      بیانئے کی جنگ میں ٹیکنالوجی کا استعمال

      ایران کے سابق صدر احمدی نژاد منظر عام پر آگئے

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    قصور کے معصوم چراغ اور پولیس کا کردار،،عیسی سکھیراکی قیادت، جدید سائنسی بنیادوں پر تفتیش، ملزم ٹریس

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    قصور :تحریر مہر احسان حسین

    جہاں لفظ بےنقاب ہوں… وہیں سے سچ کا آغاز ہوتا ہے

     

    قصور ایک بار پھر خون کے آنسو رو رہا ہے۔ نواحی علاقے اولکھ بونگا کی چار سالہ معصوم نور فاطمہ کے ساتھ بدفعلی کے بعد بے دردی سے قتل کا دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا۔ وہ ننھی کلی جو ابھی کھلنے سے پہلے ہی مرجھا گئی، اس کی داستان نے پورے شہر کو سوگوار کر دیا۔ مرکزی ملزم پولیس ریڈ کے دوران گرفتاری سے بچنے کے لیے خود کو گولی مار کر موت کو گلے لگا گیا۔یہ سوال ہر دل میں اٹھ رہا ہے کہ آخر قصور ہی وہ سرزمین کیوں بن چکی ہے جہاں بچیوں کے ساتھ زیادتی اور قتل کے واقعات بار بار سامنے آتے ہیں۔ ماضی میں زینب قتل کیس نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ کوٹ رادھاکشن، گنڈا سنگھ اور دیگر علاقوں میں ایسے ہی کئی لرزہ خیز سانحات پیش آ چکے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پہلے لوگ اپنی عزت کے خوف یا مقامی دباؤ کے تحت بچیوں سے زیادتی کے واقعات رپورٹ ہی نہیں کرتے تھے۔ دیہاتوں میں بااثر افراد کی مداخلت سے معاملہ دبا دیا جاتا، صلح صفائی یا جرگہ سسٹم کے ذریعے رفع دفع کروا لیا جاتا تھا۔ لیکن اب جب یہ واقعات صرف زیادتی تک محدود نہیں رہے بلکہ قتل جیسے بھیانک انجام تک جا پہنچے ہیں، تبھی مقدمات درج ہو رہے ہیں۔ نور فاطمہ کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ملتے ہی تھانہ صدر پھولنگر پولیس نے بچی کے چچا کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا اور علاقے میں سرچ آپریشن کے ساتھ مساجد میں اعلانات کروائے۔ رات گئے بچی کی لاش گھر سے چند قدم کے فاصلے پر ایک زیر تعمیر مکان سے ملی تو پورے گاؤں پر قیامت ٹوٹ پڑی۔ڈی پی او قصور عیسیٰ خان سکھیرا فوری موقع پر پہنچے اور کرائم سین یونٹ و فرانزک ٹیموں کو متحرک کیا۔ پوسٹمارٹم رپورٹ نے بچی کے ساتھ زیادتی کے بعد قتل کی تصدیق کی تو یہ کیس پولیس کے لیے ایک کڑا امتحان بن گیا۔ ڈی پی او کی قیادت میں پولیس ٹیموں نے علاقے کے 25 مشکوک افراد سے تفتیش کی۔ جدید سائنسی بنیادوں پر شواہد اکٹھے کیے گئے اور بالآخر 19 سالہ واصف تک پہنچا گیا۔ جیسے ہی ایس ایچ او راحیل خان نے ٹیم کے ہمراہ چھاپہ مارا تو ملزم نے گرفتاری کے خوف اور جرم کی ندامت میں خودکشی کر لی۔ پولیس کی بروقت کارروائی اور جدید طرز کی تفتیش نے بظاہر ایک اندھے کیس کو حل کر دیا، مگر سوال یہ ہے کہ آخر معاشرے میں ایسے درندے کیوں پیدا ہو رہے ہیں؟ قصور میں بار بار ہونے والے یہ المناک سانحات اس بات کا ثبوت ہیں کہ اصل خرابی سماجی رویوں اور نظام میں ہے۔ جب تک والدین، اساتذہ، سماجی رہنما اور ریاست مل کر بچوں کی حفاظت کے لیے ٹھوس اقدامات نہیں کریں گے، یہ زخم کبھی نہیں بھریں گے۔ قصور کی گلیوں میں ننھی نور فاطمہ کی یاد اب بھی زندہ ہے اور ہر ماں کی آنکھوں میں سوال بن کر گونج رہی ہے:
    “آخر ہمارے بچے کب م حفوظ ہوں گے؟

     

    Related Posts

    جڑواں شہروں میں سیکورٹی ‘ہائی الرٹ’: نور خان ایئر بیس روڈ مکمل سیل، ٹرانسپورٹ معطل اور بڑے ہوٹل خالی کرانے کا حکم

    ایران نے آبنائے ہرمز پھر بند کردی، بلیک میل نہیں ہوں گے ، صدر ڈونلڈ ٹرمپ

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیر داخلہ محسن نقوی کا وفد کے ہمراہ ایران کا 3 روزہ سرکاری دورہ مکمل

    مقبول خبریں

    دعا کے ہاتھ میں پازیٹو ٹیسٹ کٹ؟ کیا دیپیکا پڈوکون دوسری بار ماں بننے والی ہیں؟ اتوار کا سب سے بڑا سرپرائز!

    قیامت خیز 72 گھنٹے: 22 اپریل کو امن کا سورج طلوع ہوگا یا بارود کی بارش؟ دنیا سانس روکے ٹرمپ کے اعلان کی منتظر!

    بچوں میں کھانا کھاتے وقت موبائل فون کے استعمال سے موٹاپے اور فیٹی لیور کا خطرہ

    TRUMP IN SITUATION ROOMامریکی صدرکی فیلڈ مارشل سے ٹیلیفونک گفتگو؛ امریکی میڈیا

    جڑواں شہروں میں سیکورٹی ‘ہائی الرٹ’: نور خان ایئر بیس روڈ مکمل سیل، ٹرانسپورٹ معطل اور بڑے ہوٹل خالی کرانے کا حکم

    بلاگ

    ”کلثوم نواز کی بیٹی بے رحم نہیں ہوسکتی“ ملک محمد سلمان کا کالم

    ڈی پی اوز کی تعیناتی میں تاخیر،، وجہ بے نقاب، سہیل ظفر چٹھہ کا چھکا، قصور میں بھونچال

    ”پارٹی ابھی ختم نہیں ہوئی“ میاں حبیب کا کالم

    ”پاکستان کا امن مشن“ میاں حبیب کا کالم

    ناقص خوراک اور سست طرزِ زندگی: ہارٹ اٹیک اور فالج کے بڑھتے خطرات

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.