Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      آئی فون 17 کی قیمتوں میں تاریخی کمی، سستے داموں خریدنے کا سنہری موقع

      کاپی پیسٹ کرنے والوں کی شامت آ گئی! ’ایکس‘ نے کمائی کا نیا اور سخت نظام متعارف کرا دیا

      جرمنی کی خلائی میدان میں نئی تاریخ رقم

      زمین اور چاند کے درمیان ممکنہ تنازعات سے متعلق اہم انکشاف

      اسکول طلبہ کے لیے جنریٹو اے آئی ، چیٹ بوٹس کے استعمال پر پابندی، اسکرین ٹائم بھی محدود

    • بلاگ
    • ویڈیوز

        بھٹ شاہ رورل ہیلتھ سینٹر کی  غفلت سے خاتون اور نومولود جاں بحق

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں ضلع بھر میں مختلف تقریبات کا سلسلہ جاری

      ہیومین ویلفیئر آرگنائزیشن پاکستان کے زیر اہتمام ریلی نکالی گئی

      عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ اور جامع مدرسہ منصورہ ہالا کے مشترکہ تعاون سے مفت میڈیکل کیمپ کا انعقاد

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں مغل ویلفیئر اتحاد ہالا کی جانب سے ریلی نکالی گئی

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    پنجاب پولیس کا “مہان” ایس ایچ او

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

     

    تحریر اسد مرزا

    جہاں لفظ بےنقاب ہوں… وہیں سے سچ کا آغاز ہوتا ہے

     

    یہ ملک بھی عجیب ہے۔ یہاں ڈاکو پکڑا جائے تو حیرت ہوتی ہے، اور پولیس والا پکڑا جائے تو لطیفہ لگتا ہے۔ فیصل آباد کا ایس ایچ او ذیشان خالد رندھاوا انہی لطیفوں میں سے ایک ہے۔ وہ افسر جس پر کرپشن، منشیات فروشوں سے تعلق، قحبہ خانوں کے سرپرست ہونے، آئل چوری میں حصہ دار ہونے اور جرائم پیشہ افراد سے مالی فائدہ لینے جیسے الزامات ثابت ہو چکے تھے، وہ برطرف بھی ہوتا اور پھر کسی نہ کسی طاقتور سیاسی شخصیت کی سفارش پر بحال بھی ہو جاتا۔یعنی ایک طرف یہ قوم اپنی قسمت پر ماتم کرتی ہے اور دوسری طرف ایسے “قانون کے رکھوالے” لوگوں پر مسلط کیے جاتے ہیں جو قانون کے سب سے بڑے توڑنے والے ہوتے ہیں۔ ذیشان خالد رندھاوا کو بیس بار انکوائری افسر نے طلب کیا، وہ پیش نہ ہوا۔ لیکن افسران کا تمسخر اڑانے کے لئے اعتراف کرتا کہ بیس نہیں آٹھ بار بلایا گیا تو میں پھر بھی نہیں آیا۔ جب سینئر افسر نے اردل روم میں حاضر ہونے کو کہا، تب بھی غائب رہا۔ آخرکار اسے برطرف کرنا پڑا اور برطرفی کے فیصلے میں لکھا گیا کہ یہ شخص غیر نظم و ضبط، ناقابلِ اصلاح اور پولیس کی بدنامی کا باعث ہے۔ لیکن کیا ہوا؟ چند مہینے بعد وہ پھر بحال، پھر من پسند پوسٹنگ پر تعینات، پھر وہی کھیل جاری۔سوال یہ ہے کہ اس نظام میں اصل مجرم کون ہے؟ ذیشان رندھاوا یا وہ سیاسی اشرافیہ جو اس جیسے کرداروں کو ڈھال دیتی ہے۔ اور پھر وہ اعلی افسران جو جانتے بوجھتے ایسے افراد پر کمپرومائز کر لیتے ہیں۔ آخرکار نتیجہ وہی نکلا جس کا خدشہ تھا۔ غلام رسول نامی شخص اغوا ہوا، فیصل آباد لایا گیا، اور پھر ایک ایس ایچ او نے اسے ماتھے پر گولی مار کر ہلاک کیا۔ یہ واقعہ محض قتل نہیں، یہ انصاف کے منہ پر طمانچہ ہے۔طنز یہ ہے کہ جس پولیس کا کام شہریوں کی حفاظت تھا، وہی پولیس اپنی وردی کے سائے میں قتل کی سرپرستی کر رہی تھی۔ لیکن شاید یہ پہلا موقع ہے جب قسمت نے رخ بدلا اور سی سی ڈی کے ایماندار افسر نے اس کھیل کو توڑ ڈالا۔ سیاسی سفارشیں فیل ہوئیں، مگر اب بھی یہ شخصیات متحرک ہیں، تاکہ اپنے “کارآمد” آدمی کو بچا سکیں۔کالم نگار کی نظر میں یہ کیس صرف ایک شخص یا ایک قتل کا نہیں، یہ پورے نظام کی بیماری کی تشخیص ہے۔ ایسے افسران جب کرپشن، منشیات اور جرائم سے وابستہ ہوں اور پھر سیاسی اشرافیہ کے تحفظ میں کھیلتے رہیں تو عام آدمی کو انصاف کہاں سے ملے گا؟

    Related Posts

    منچن آباد ، پولیس مقابلہ،   ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار

    دریا سندھ میں ڈوبنے سے  راہگیر  (فقیر) جاں بحق

    :  شادی سے انکار پر لڑکی کا قتل  ، 17 سال سے زائد عرصہ روپوش ملزم گرفتار

    مقبول خبریں

    شہری آج بھی خستہ حال اور غیر معیاری گاڑیوں میں سفر کرنے پر مجبور

    منچن آباد ، پولیس مقابلہ،   ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار

    دریا سندھ میں ڈوبنے سے  راہگیر  (فقیر) جاں بحق

    :  شادی سے انکار پر لڑکی کا قتل  ، 17 سال سے زائد عرصہ روپوش ملزم گرفتار

    سیالکوٹ کی تاریخ میں پولیس ملازم کو رشوت دینے کا پہلا مقدمہ

    بلاگ

    لاہور پریس کلب میں عشقِ رسول ﷺ کی خوشبو — خواتین صحافیوں کی یادگار محفلِ میلاد

    ناہید طالب: فن، صلاحیت اور خدمت کا روشن استعارہ

    جنگِ چونڈہ 1965

    "میں لجپالاں دے لڑ لگیاں، میرے توں غم پرے رہندے” — ایک دفتر، ایک روایت اور مثبت سوچ کی خوبصورت صبح

    دہشت گردی کے خونی پنجوں میں سسکتا دیربالا کا دلکش علاقہ دوبندو

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.