اسلام آباد :اسلام آباد ہائیکورٹ نے ارشد شریف قتل کیس کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنانے کی درخواستوں پر ایک بار پھر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
درخواست گزاروں میں سینئر صحافی حامد میر، ارشد شریف کی اہلیہ جویریہ صدیق، اور جوڈیشل ایکوٹیزم پینل کے چیئرمین محمد اظہر صدیق شامل ہیں۔
سماعت کے دوران وکیل کمیشن بنانے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کیا گیا تھا لیکن ابھی تک اس پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ وکیل نے مزید کہا کہ ارشد شریف کے خلاف 16 ایف آئی آرز درج ہوئیں، اور ان کے قتل کے وقت انہوں نے اپنے دوستوں کو پاکستان واپس آنے کا پیغام بھیجا تھا۔
ڈی آئی جی اویس نے عدالت کو آگاہ کیا کہ کینیا کے ساتھ میوچل اسسٹنٹ پراسیس میں پیشرفت ہو رہی ہے اور ایف آئی آر درج ہو چکی ہے، تاہم یہ کیس تین سال سے صرف رپورٹس تک محدود ہے۔
جوڈیشل کمیشن کے قیام کی درخواستیں آج جسٹس راجہ انعام امین منہاس کی عدالت میں سماعت کے لئے مقرر کی گئی تھیں ۔
یادرہے اس سےقبل 2024 میں سابق چیف جسٹس عامر فاروق نے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔
درخواست گزاروں نے استدعا کی ہے کہ اس ہائی پروفائل کیس کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کو یقینی بنانے کے لیے سپریم کورٹ کے حاضر سروس جج کی سربراہی میں ایک آزاد جوڈیشل کمیشن قائم کیا جائے۔

