قطر نے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری شدید تنازع کے حل اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک نیا سفارتی فارمولا پیش کر دیا ہے۔
برطانوی اخبار ’دی گارڈین‘ کے مطابق قطری تجویز کے تحت ایران کو اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ وہ اقوامِ متحدہ کے معائنہ کاروں کو امریکی بمباری سے متاثر ہونے والی جوہری تنصیبات سمیت دیگر سائٹس تک رسائی دے، جس سے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ بدلے میں امریکہ ایران کی بحری ناکہ بندی فوری طور پر ختم کرے گا اور واشنگٹن کی جانب سے ایران کے منجمد 8 ارب ڈالر کے اثاثوں کا کچھ حصہ بحال کیے جانے کا بھی امکان ہے۔ رپورٹس کے مطابق قطری منصوبے میں افزودہ یورینیم کو ملک سے باہر منتقل کرنے کا شق شامل نہیں بلکہ افزودگی کی سطح کم کرنے کی تجویز ہے، تاہم حساس معلومات امریکہ یا اسرائیل تک پہنچنے کے خدشے کے پیشِ نظر ایران کی جانب سے اقوامِ متحدہ کے معائنہ کاروں کو رسائی دینے پر تاحال حتمی اتفاق نہیں ہو سکا ہے۔وزیراعظم کے
ایران امریکا تنازع حل کرنے لئے قطر کا نیا سفارتی فارمولاپیش، دی گارڈین

