واشنگٹن:
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ایران پر دباؤ مزید سخت کرنے کے لیے "آئرن گیٹ” (Iron Gate) کے نام سے ایک نئی خصوصی ٹاسک فورس قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ قدم تہران کے خلاف جاری اقتصادی و اسٹریٹجک دباؤ کو سمندری حدود سے نکال کر اب زمینی سرحدوں تک وسعت دینے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔حکام کے مطابق، اس نئی ٹاسک فورس کا اصل ہدف زمینی راستوں اور بحیرہ کیسپیئن کے ذریعے ایران سے ہونے والی جدید ہتھیاروں، ممنوعہ سامان، اور دوہری استعمال کی ٹیکنالوجی (Dual-use Technology) کی نقل و حرکت اور اسمگلنگ کو سختی سے روکنا ہے۔واضح رہے کہ اس سے قبل امریکہ اور اتحادی ممالک سمندری ناکہ بندی کے ذریعے ایران کو اربوں ڈالر مالیت کے خام تیل کی برآمدات سے کامیابی کے ساتھ روک چکے ہیں۔ اب "آئرن گیٹ” ٹاسک فورس کے قیام کا مقصد ان تمام زمینی اور سمندری رسد کے راستوں کو بند کرنا ہے جن کے ذریعے مبینہ طور پر پابندیوں کی خلاف ورزی کی جا رہی تھی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے خطے میں ایران پر اقتصادی دباؤ میں مزید اضافہ ہوگا اور تہران کی تجارتی سرگرمیوں پر قابو پانے کے لیے امریکی حکمت عملی میں ایک نیا موڑ آئے گا۔

