قصور (بے نقاب رپورٹ):قصور کے نواحی گاؤں محمود خانیکے میں ایک ہی خاندان کے 5 افراد کی پراسرار ہلاکت کے معاملے پر میڈیا اور عوامی حلقوں میں گردش کرنے والی ’زہریلی چھپکلی‘ کی کہانی کو ڈی پی او قصور آفتاب احمد پھلروان نے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔
پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی پی او قصور نے واضح الفاظ میں کہا، "یہ ڈرامہ اب بند ہونا چاہیے کہ کھیر میں چھپکلی گری، دودھ میں چھپکلی گری اور بندے مر گئے۔ چھپکلی بالکل بھی زہریلی نہیں ہوتی، لوگ تو اسے کھاتے بھی ہیں۔” انہوں نے کہا کہ پولیس نے اس افسوسناک واقعے اور اموات کو محض ایک اتفاقی حادثہ قرار دے کر فائل بند نہیں کی، بلکہ واقعے کی تہہ تک پہنچنے کے لیے تمام قانونی و سائنسی تقاضے پورے کیے جا رہے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق 22 اکتوبر کو گھر میں تیار کی گئی مبینہ زہریلی کھیر کھانے سے ایک ہی خاندان کے افراد کی طبیعت شدید ناساز ہو گئی تھی، جس کے بعد 25 سے 28 اکتوبر کے دوران 5 افراد زندگی کی بازی ہار گئے تھے۔ ابتدائی طور پر اس المیے کی وجہ کھیر میں چھپکلی گرنا بتائی جا رہی تھی۔
ڈی پی او نے بتایا کہ پولیس کی جانب سے چار متوفین کے پوسٹ مارٹم کے بعد ان کے معدے، جگر، تلی اور دیگر جسمانی اعضا کے نمونے پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی (PFSA) لاہور بھجوا دیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حتمی فرانزک رپورٹ آنے پر ہی اصل حقائق سامنے آئیں گے کہ آیا ان افراد کو کوئی زہر دیا گیا تھا یا اموات کی وجہ کچھ اور تھی۔ پولیس معاملہ ہر زاویے سے زیرِ تفتیش رکھے ہوئے ہے۔
قصور میں کھیر کھانے سے 5 افراد کی ہلاکت کیسے ہوئی?ڈی پی او قصور آفتاب پھلروان کا اہم انکشاف

