تحریر :میاں حبیب
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
بالآخر حکومت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان سے سات ماہ کے طویل عرصے بعد ان کی پارٹی کے مرکزی رہنما و وکیل سلمان صفدر کی ملاقات کروا دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی بانی پی ٹی آئی کی اہلیہ بشریٰ بی بی سے بھی تقریباً 11 ماہ بعد ان کی ملاقات ممکن ہو سکی ہے۔ ایک طویل عرصے سے عمران خان تک نہ تو ان کے خاندان کے کسی فرد کی رسائی تھی، نہ ان کے وکلاء ان سے مل سکتے تھے اور نہ ہی کوئی پارٹی رہنما ان تک پہنچ پا رہا تھا۔ حکومت نے عمران خان کی بہنوں پر بھی یہ کہہ کر ملاقات کی پابندی عائد کر دی تھی کہ وہ جیل سے باہر آ کر میڈیا سے گفتگو میں سیاست کرتی ہیں۔
حکومت کی جانب سے عمران خان کے تمام رابطے منقطع کرنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ پارٹی امور اور سیاست چلانے کے لیے بانی پی ٹی آئی کی ہدایات ناپید ہو گئیں۔ تحریک انصاف ایک طرح سے ‘شتر بے مہار’ ہو کر رہ گئی اور پارٹی پر کسی کی گرفت نہ رہی۔ ہر رہنما اپنی من مرضی کرنے لگا اور اندرونی طور پر مختلف دھڑے وجود میں آ گئے، جس سے تحریک انصاف پر مرکزی کنٹرول ختم ہو گیا۔
آج پی ٹی آئی کے اندر بھانت بھانت کی بولیاں بولی جا رہی ہیں اور ہر دھڑا اپنی طرزِ سیاست کو ہی پارٹی کی بقا قرار دے رہا ہے۔ ہر ایک کا دعویٰ ہے کہ صرف اس کے فارمولے پر چل کر ہی عمران خان کو ریلیف دلایا جا سکتا ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ تقریباً سبھی نے عمران خان کے راستے میں کانٹے بوئے ہیں اور پارٹی کی سیاست کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ نہ تو کوئی مؤثر احتجاج ہو سکا اور نہ ہی بہترین رابطہ کاری سے مسائل حل ہو سکے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ آج تحریک انصاف اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ خیبر پختونخوا میں بھی اپنی حکومت سے ہاتھ دھو بیٹھی ہے اور احتجاج کرنے کی صلاحیت بھی کھو چکی ہے۔
آج بانی پی ٹی آئی کا پورا خاندان جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہے۔ ان کی تینوں بہنوں کو 16 ایم پی او کے تحت گرفتار کر کے کوٹ لکھپت جیل میں بند کیا گیا ہے۔ یہ نظر بندی ابتداء میں ایک ماہ کے لیے تھی، جس میں اب مزید یک ماہ کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ لیکن کیا یہ محض ایک حسنِ اتفاق ہے کہ اسلام آباد میں جس وقت بانی پی ٹی آئی سے سلمان صفدر کی ملاقات کروائی جا رہی تھی، ٹھیک اسی وقت لاہور ہائی کورٹ نے ان کی بہن نورین نیازی کو ان کی دونوں بیٹیوں سے ملاقات کی اجازت کا حکم صادر کیا؟
قبل ازیں حکومت نے سپریم کورٹ کے حکم پر بانی پی ٹی آئی کو علاج کی غرض سے پمز ہسپتال منتقل کیا تھا، جس سے تحریک انصاف کے ورکرز یہ سمجھ رہے تھے کہ شاید اب برف پگھل رہی ہے، مگر معاملہ اس کے برعکس نکلا۔ اب عمران خان سے حالیہ ملاقات کے بعد پھر یہی تاثر دیا جا رہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج و ایمرجنسی کے نفاذ اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی و دیگر رہنماؤ ں کی گرفتاریوں پر خاموشی اختیار کرنے کی پاداش میں یہ ملاقاتیں شروع کروائی گئی ہیں۔
سلمان صفدر نے ملاقات کے بعد میڈیا کو یہی تاثر دیا کہ ان کی بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی سے صرف قانونی مقدمات پر بات ہوئی ہے۔ تاہم، ہماری اطلاعات کے مطابق اس ملاقات میں سب سے زیادہ سیاسی امور زیرِ بحث آئے ہیں۔ بانی پی ٹی آئی نے کئی حوالوں سے نئی ڈائریکشنز دی ہیں اور کچھ رہنماؤں کی سخت سرزنش بھی کی ہے کیونکہ وہ پارٹی کی موجودہ سیاست اور حکمتِ عملی سے شدید ناخوش ہیں۔ لیکن سلمان صفدر نے ملاقات کے لیے طے شدہ ضوابط کی پاسداری کرتے ہوئے باہر آ کر سیاست پر ایک لفظ بھی نہیں بولا۔
تحریک انصاف کی موجودہ قیادت اس ملاقات کو اپنی حکمتِ عملی کا نتیجہ قرار دے کر ہوا کا تازہ جھونکا بتا رہی ہے، لیکن ماضی اس بات کا گواہ ہے کہ جب بھی ایسا تاثر قائم کر کے کارکنان کو مطمئن کرنے کی کوشش کی گئی، اس کے فوراً بعد پی ٹی آئی پر کوئی نہ کوئی بڑا سیاسی یا قانونی وار ہوا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ‘مثبت سیاست’ کے ذریعے عمران خان کو ریلیف دلوانے کا تاثر دے کر پسِ پردہ کون سی نئی چال چلی جا رہی ہے۔
اس تمام صورتِ حال کا اگر باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے ہوئے کھلاڑی اور پسِ پردہ ڈوریاں ہلاتے عناصر ایک خاص منصوبہ بندی کے تحت آگے بڑھ رہے ہیں۔ بانی پی ٹی آئی کو اچانک یہ محدود سیاسی و قانونی راستہ دینا کسی بڑی سیاسی ڈیل کا حصہ ہے یا پھر تحریک انصاف کے اندر موجود خلیج کو مزید بڑھانے کی ایک کوشش؟ کیونکہ جب بھی بانی پی ٹی آئی کی جانب سے نئی ہدایات آتی ہیں، تو پارٹی کا ایک مخصوص طبقہ انہیں اپنے مفاد کے مطابق موڑ کر پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے، جس سے کارکنوں میں مزید ابہام اور مایوسی پھیلتی ہے۔
دوسری جانب، خیبر پختونخوا میں حکومت کے خاتمے اور صوبائی قیادت کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کا سب سے بڑا سیاسی قلعہ بھی ان کے ہاتھ سے نکل چکا ہے۔ جو پارٹی کل تک مرکز اور صوبوں کو چیلنج کرنے کی پوزیشن میں تھی، آج وہ محض اپنے قائد کی رہائی اور بنیادی حقوق کی بحالی کی جنگ لڑ رہی ہے۔ موجودہ قائم مقام قیادت کی یہ مسلسل ناکامی ثابت کرتی ہے کہ عمران خان کی غیر موجودگی میں پارٹی کے پاس نہ تو کوئی واضح ‘پلان بی’ تھا اور نہ ہی کوئی ایسی سیکنڈ لائن لیڈرشپ جو بحران کے وقت کارکنوں کو متحد رکھ کر کسی منطقی انجام تک پہنچا سکتی۔
اسی اثناء میں، ذرائع کا دعویٰ ہے کہ عمران خان کی جانب سے دی گئی نئی ڈائریکشنز میں پارٹی کو دوبارہ فعال کرنے، پارلیمانی اور عوامی سطح پر سخت مگر منظم حکمتِ عملی اپنانے، اور اندرونی اختلافات کو فوری ختم کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ بانی پی ٹی آئی نے واضح کر دیا ہے کہ اب نام نہاد ‘مصالحتی سیاست’ کے نام پر پارٹی کو مزید مفلوج کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ تاہم، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا موجودہ قیادت کے پاس اتنی صلاحیت اور سیاسی بصیرت موجود ہے کہ وہ عمران خان کی ان سخت ہدایات پر عملدرآمد کروا سکے؟
آنے والے چند ہفتے پاکستان کی سیاست اور بالخصوص تحریک انصاف کے مستقبل کے لیے انتہائی فیصلہ کن ثابت ہوں گے۔ اگر پی ٹی آئی کی قیادت نے اب بھی ماضی کی غلطیوں سے سبق نہ سیکھا اور عمران خان کی نئی ڈائریکشنز پر عمل کرنے کے بجائے محض زبانی جمع خرچ اور مفاہمت کے دلاسوں پر اکتفا کیا، تو نہ صرف عمران خان کی رہائی کا معاملہ مزید طویل ہو جائے گا بلکہ تحریک انصاف ایک عوامی قوت کے طور پر اپنی رہی سہی شناخت بھی کھو دے گی۔ اقتدار کے ایوانوں میں بچھائی گئی اس نئی شطرنج پر پی ٹی آئی کی اگلی چال ہی اس کے سیاسی وجود کا فیصلہ کرے گی۔


