اسلام آباد :وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی اہم ترین شاہراہ پر قائم اربوں روپے کے متنازع پروجیکٹ ‘ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو’ میں ہونے والی سنگین مالی اور قانونی بے قاعدگیوں کے بارے میں جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (JIT) کی باضابطہ انکوائری رپورٹ منظرِ عام پر آ گئی ہے۔ وفاقی کابینہ کی منظوری اور وزیراعظم کی جانب سے رواں برس مئی میں نیب (NAB) کی سربراہی میں قائم کی گئی اس اعلیٰ سطحی کمیٹی میں ایف آئی اے، ایف بی آر، ایس ای سی پی اور حساس اداروں کے سینئر حکام شامل تھے۔
ون کانسٹیٹیوشن ایونیو (Twin Towers) اسلام آباد کے حوالے سے جے آئی ٹی رپورٹ کابینہ سے منظور،اس عمارت کی دوبارہ نیلامی ہوگی، عبدالحفیظ شیخ کمپنی کو بلیک لسٹ کرنے اور چیرمین سی ڈی اے کامران لاشاری اور دیگر کیخلاف نیب تحقیقات کرے گی۔۔۔۔الاٹیز کو معاوضہ دیا جائے گا۔۔۔۔ https://t.co/G1atIZkp3x
— M Awais Kiyani (@awaiskiyani24) November 4, 2026
جے آئی ٹی کی رپورٹ میں سنسنی خیز انکشافات کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ ساڑھے 13 ایکڑ پر مشتمل یہ قیمتی زمین محض فائیو اسٹار ہوٹل کی تعمیر کے لیے الاٹ کی گئی تھی، تاہم نیلامی کے پہلے مرحلے کو سی ڈی اے (CDA) بورڈ کی منظوری کے بغیر منسوخ کر کے قوانین میں من مانی تبدیلیاں کی گئیں۔ بعد ازاں دھاندلی زدہ بولی جیتنے والے چار رکنی کنسورشیم کے بجائے لیز ایک ایسی کمپنی (بی این پی) کو جاری کر دی گئی جو کنسورشیم کا حصہ ہی نہیں تھی۔ تحقیقات کے مطابق ڈیل میں جمع کرائی گئی بینک گارنٹی اور جوائنٹ وینچر کی کاغذی کارروائی جعلی اور مشکوک تھی، جس میں کنسورشیم کے 2 ارکان کے دستخط جعلی پائے گئے جبکہ ایک گواہ کی تاریخِ دستخط کے وقت بیرونِ ملک موجودگی ثابت ہوئی۔ مزید برآں، 254 سروس اپارٹمنٹس کو غیر قانونی طور پر رہائشی یونٹس کے طور پر 99 سال کی ذیلی لیز پر فروخت کر کے قومی خزانے کو اربوں کا نقصان پہنچایا گیا۔ جے آئی ٹی نے اس تمام تر ملی بھگت اور دھاندلی کا مرکزی “ماسٹر مائنڈ” عبدالحفیظ شیخ کے ساتھ ساتھ کامران لاشاری، فیصل اعوان، اظہر چوہدری، بریگیڈیئر نصرت اللہ اور مرحوم رائے نواز کھرل کو قرار دیا ہے۔
جے آئی ٹی نے رپورٹ میں وزیراعظم پاکستان کو 9 اہم اور سفارشات پیش کی ہیں۔ ان سفارشات میں عبدالحفیظ شیخ اور بی این پی (BNP) کو تمام سرکاری پروجیکٹس کے لیے بلیک لسٹ کرنے، پروجیکٹ کا ازسرنو قانونی جائزہ لے کر رہائشی استعمال کی اجازت فوری ختم کرنے، عمارت و زمین کی شفاف نیلامی، اور سی ڈی اے کی جانب سے متاثرہ اصل خریداروں کو رقم مع سود واپس کرنے کی تجاویز شامل ہیں۔ مزید برآں، یہ سفارش بھی کی گئی ہے کہ چونکہ ‘ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو’ وزارتِ خارجہ کا آفیشل پتا ہے، اس لیے اس پروجیکٹ کا نام تبدیل کیا جائے اور نیب کو 3 ماہ کے اندر اس تمام گھپلے پر احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کرنے کی ہدایت کی جائے۔

