واشنگٹن ڈی سی :ریپبلکن پارٹی میں منگل کی رات سامنے آنے والے حیران کن انتخابی نتائج پر ابتدائی صدمے نے جلد ہی امریکی صدر کے خلاف غصے کی شکل اختیار کر لی۔
’ذمہ داری ان ہی پر عائد ہوتی ہے۔ کسی اور پر نہیں۔ یہ صدر ٹرمپ کو مکمل اور دوٹوک طور پر مسترد کیے جانے کا اظہار ہے۔’ ریپبلکن لابیسٹ بل ملر نے وسط مدتی انتخابات کے نتائج واضح ہونے کے فوراً بعد بی بی سی سے گفتگو میں یہ بات کہی۔انھوں نے مزید کہا: ’یہ انتہائی درجے کی سیاسی تباہی ہے۔ کسی نے بھی اس پیمانے کے نتائج کی توقع نہیں کی تھی۔‘
ٹیکساس، کنساس اور جنوبی کیرولائنا جیسی مضبوط ریپبلکن ریاستوں میں ڈیموکریٹس کی غیر متوقع کامیابیوں کے بعد بعض ریپبلکن رہنماؤں نے اپنی ناراضی کا رخ ٹرمپ کی جانب موڑ دیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ اپنی سیاسی میراث پر ضرورت سے زیادہ توجہ اور ووٹروں کے مسائل سے لاتعلقی نے پارٹی سے کانگریس کا کنٹرول چھین لیا۔
مینیسوٹا سے تعلق رکھنے والے ریپبلکن حکمتِ عملی ساز گریگ پیپن نے کہا: ’یہ ایک کے بعد ایک غلطی تھی۔‘انھوں نے مزید کہا ’واضح طور پر ریاست در ریاست لوگوں نے صدر کی پالیسیوں کو پسند نہیں کیا۔‘
ٹرمپ کے ایک قریبی وائٹ ہاؤس اتحادی نے کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ، محصولات اور انتظامیہ کی امیگریشن کے خلاف سخت کارروائی نے ایک ’مکمل طوفانی صورتحال‘ پیدا کر دی، جس کے بعد صدر کے خلاف غصہ ’انتہائی بلند سطح‘ پر پہنچ گیا ہے۔
’یہ سیاسی تباہی ہے‘: ناراض ریپبلکن رہنماؤں نے شکست کا ذمہ دار صدر ٹرمپ کو ٹھہرا دیا

