مٹیاری (رپورٹ: عامر علی انڑ)
ضلع مٹیاری کے شہر نیو سعیدآباد میں مویشیوں کے باڑوں اور گلی محلوں میں بڑی تعداد میں بھینسوں کی بلا روک ٹوک آمدورفت شہریوں بالخصوص اسکول جانے والے معصوم بچوں اور خواتین کے لیے شدید پریشانی اور مستقل خطرہ بن گئی ہے۔
شہری رہنماؤں قمرالدین بلوچ، گل گاھوٹی، عبدالحکیم میمن، عبدالعزیز راہو اور طیب کیریو نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تشویش کا اظہار کیا کہ نیو سعیدآباد شہر کے اندر بڑی تعداد میں مویشیوں کے باڑے قائم ہیں،
جہاں سے روزانہ درجنوں بھینسیں شہر کی گلیوں اور سڑکوں پر دندناتے ہوئے گزرتی ہیں۔ مویشیوں کے اچانک ٹکرانے کے باعث شہریوں کے زخمی ہونے کے واقعات اب روز کا معمول بنتے جا رہے ہیں۔
رہنماؤں نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ مارکیٹ کمیٹی والی گلی سمیت شہر کے مختلف حصوں سے باڑوں کے مالکان صبح کے وقت—ٹھیک اسکول جانے کے اوقات میں—بڑی تعداد میں بھینسیں ہالا برانچ نہر کی جانب لے کر جاتے ہیں، جہاں اس راستے پر چار تعلیمی ادارے قائم ہیں۔ اسی طرح دوپہر کے وقت اسکولوں کی چھٹی کے ہجوم کے دوران یہی بھینسیں دوبارہ گلیوں سے گزاری جاتی ہیں، جس کے نتیجے میں اب تک متعدد مرتبہ طلبہ و طالبات، خواتین اور بزرگ شہری جانوروں کی ٹکر سے زخمی ہو چکے ہیں۔
شہری رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ان سنگین حادثات کے باوجود متعلقہ میونسپل اور ضلعی انتظامیہ مالکان کے خلاف مؤثر قانونی کارروائی کرنے میں مکمل طور پر ناکام نظر آ رہی ہے، جس کے باعث معصوم بچوں کی زندگیاں ہر وقت خطرے سے دوچار ہیں۔
انہوں نے کمشنر حیدرآباد ریجن فیاض حسین عباسی، ڈپٹی کمشنر مٹیاری محمد ذاکر دانش اور دیگر متعلقہ اعلیٰ حکام سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ اس فوری نوعیت کے مسئلے کا نوٹس لیا جائے، شہر کی گلیوں میں مویشیوں کی نقل و حرکت پر مکمل پابندی عائد کی جائے اور شہر کے اندر قائم تمام مویشیوں کے باڑے آبادی سے باہر منتقل کیے جائیں تاکہ شہریوں کو ایک محفوظ اور پرامن ماحول فراہم کیا جا سکے۔

