واشنگٹن:
امریکہ میں امیگریشن پالیسیوں میں ممکنہ سخت تبدیلیوں اور فیسوں میں اضافے کے بعد غیر ملکی تارکین وطن، بالخصوص ہندوستانی پیشہ ور افراد کی مشکلات میں اضافہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ یہ صورتحال خاص طور پر ٹیکنالوجی اور آؤٹ سورسنگ سیکٹر سے وابستہ افراد کے لیے پریشان کن بنتی جا رہی ہے۔ذرائع کے مطابق، امریکی حکام کی جانب سے زیر غور نئی تجاویز میں یہ بات شامل ہے کہ وہ بھاری فیس جو پہلے صرف نئی ویزا درخواستوں یا آجر کی تبدیلی (Change of Employer) پر لاگو ہوتی تھی، اب ایچ-1بی (H-1B) اور ایل-1 (L-1) ویزا کی توسیع (Renewals) پر بھی عائد کی جا سکتی ہے۔ یو ایس سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروسز (USCIS) کے جاری کردہ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ ایچ-1بی ویزا کی مسلسل ملازمت اور اس کی توسیع کی منظوریوں میں ہندوستانی شہریوں کا تناسب تقریباً 77 سے 79 فیصد کے قریب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قوانین کے سخت ہونے اور تجدید پر بھاری فیس نافذ ہونے سے سب سے بڑا دھچکا اسی طبقے کو لگنے کا اندیشہ ہے امریکہ کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں اور کارپوریٹ ادارے اپنے موجودہ ملازمین کے ویزوں کی تجدید کے لیے پہلے ہی کثیر سرمایا خرچ کرتے ہیں، تاہم نئی تجاویز کے نفاذ سے یہ مالی بوجھ کئی گنا بڑھ جائے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف کارپوریٹ سیکٹر متاثر ہوگا بلکہ آئی ٹی جاب مارکیٹ اور پروفیشنلز میں بھی شدید عدم یقینی کی لہر دوڑ گئی ہے۔

