لاہور
طبی تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی کے دور میں مصنوعی ذہانت (AI) نے صحت کے شعبے میں انقلاب برپا کر دیا ہے۔ خصوصاً خواتین میں پائے جانے والے موذی مرض ‘بریسٹ کینسر’ کی ابتدائی مراحل میں تشخیص کے لیے اے آئی کا استعمال ایک انتہائی طاقتور اور مؤثر ذریعہ بن چکا ہے۔ دنیا بھر کے ریڈیولوجسٹ اور ماہرینِ امراضِ سرطان (Oncologists) اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ جدید الگورتھمز اور مشین لرننگ سسٹمز میموگرافی کی تصاویر کا باریک بینی سے تجزیہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
طبی ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت کے فوائد درج ذیل ہیں:
-
ابتدائی علامات کی بروقت نشاندہی: AI ایسے چھوٹے چھوٹے تبدیل شدہ ٹشوز (Microcalcifications) یا مشکوک غدود کو ابتدائی مرحلے میں ہی پکڑ لیتا ہے جو بسا اوقات ابتدائی جانچ میں انسانی آنکھ سے اوجھل رہ جاتے ہیں۔ کینسر کی تشخیص جنی جلدی ہو، اس کے علاج کی کامیابی کے امکانات اتنے ہی بڑھ جاتے ہیں۔
-
انسانی غلطی (Human Error) کے امکانات میں کمی: طویل شفٹوں میں کام کرتے ہوئے طبی عملہ تھکن کا شکار ہو سکتا ہے، جس سے معمولی تفصیلات نظر انداز ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔ ایسے میں AI ایک "دوسری نظر” (Second Opinion) کا کردار ادا کرتا ہے اور ڈاکٹروں کی بہتر رہنمائی کرتا ہے۔
-
تیزی سے رپورٹس کی تیاری: اے آئی سسٹمز اسکینز کا تجزیہ انتہائی قلیل وقت میں مکمل کر لیتے ہیں، جس سے مریضوں کو بروقت رپورٹس ملتی ہیں اور فوری طور پر علاج کا آغاز ممکن ہو جاتا ہے۔
ڈاکٹرز کی اہم ہدایت: طبی ماہرین اس بات پر سختی سے زور دیتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کبھی بھی ڈاکٹر کا متبادل نہیں ہو سکتی۔ یہ ٹیکنالوجی صرف ایک معاون (Assistive Tool) ہے جو ریڈیولوجسٹ کی مدد کرتی ہے، جبکہ حتمی تشخیص ہمیشہ مستند ڈاکٹر ہی مریض کی مکمل طبی ہسٹری اور معائنے کے بعد کرتا ہے۔

