اسلام آباد :پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرانے کے لیے اسلام آباد کی سفارتی پیش رفت پر محتاط امید کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے پاکستان کی جدوجہد جاری ہے، تاہم خطے میں ایسے منفی عناصر بھی متحرک ہیں جو اس تنازع کو ختم کرنے کے بجائے اپنے مفادات کے لیے طول دینا چاہتے ہیں۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کو دیئے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی قیادت ایران اور امریکہ کے درمیان تناؤ کم کرنے کی کوششوں کو مثبت انداز میں دیکھ رہی ہے، لیکن معاملے کی حساسیت کے پیشِ نظر محتاط رہنے کی شدید ضرورت ہے، اگر فیلڈ مارشل عاصم منیر رواں ماہ میں دوسری بار تہران گئے ہیں تو اس کے پیچھے یقیناً کوئی نہ کوئی مثبت پیش رفت موجود ہے، تاہم پاکستان کا مؤقف اس معاملے پر ہمیشہ محتاط طور پر پُرامید رہنے کا رہا ہے۔
ترجمان پاک فوج نے نے بتایا کہ حالیہ اعلیٰ سطح کے دورے میں سعودی عرب کے وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان اور ترکیہ کے انٹیلی جنس چیف ابراہیم قالن بھی فیلڈ مارشل کے ہمراہ تھے، جو کہ ایران اور امریکہ کے درمیان گزشتہ اٹھ ماہ سے جاری جنگ کو روکنے کی مشترکہ سفارتی کوششوں کا اہم حصہ تھا، تاہم خطے میں ایسی مخالف قوتیں اور با اثر عناصر موجود ہیں جو اس جنگ کے جاری رہنے کو اپنے فائدے میں سمجھتے ہیں اور وہ امن کی ان کوششوں میں رکاوٹیں کھڑی کر سکتے ہیں۔
پاکستان سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان حال ہی میں طے پائے جانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ معاہدے کی شرائط نئے ارکان کی شمولیت میں حائل نہیں ہوتیں، اگر ایران یا کوئی بھی دوسرا ملک مشترکہ دفاع اور علاقائی امن کے تصور سے اتفاق کرتا ہے تو اس کا خیرمقدم کیا جا سکتا ہے، تاہم اس کا حتمی فیصلہ تینوں ممالک کی سیاسی قیادت کو کرنا ہے۔
انٹرویو کے دوران جب ان سے سعودی عرب میں پاکستانی افواج کی مزید تعیناتی سے متعلق سوال کیا گیا تو اس پر فوجی ترجمان نے جواب دیا کہ اس کا انحصار حالات اور دونوں ممالک کی سیاسی قیادت کے فیصلوں پر ہوگا، پاکستان سعودی عرب کے دفاع کے لیے پرعزم ہے اور مقدس مقامات حرمین شریفین کے تحفظ کو اپنی اولین ذمہ داری سمجھتا ہے، تاہم پاکستان یمن کی اندرونی جنگ یا تنازع کا فریق نہیں ہے۔
حرمین شریفین کا تحفظ اولین ذمہ داری،پاکستان یمن کی اندرونی جنگ کا فریق نہیں، ایران امریکا کے درمیان ثالثی پر محتاط انداز میں پر امید ہیں، ترجمان پاک فوج

