اٹلانٹا: امریکا کے شہر اٹلانٹا میں منعقدہ جی-20 (G20) کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے پہلے ہی دن شدید سفارتی بحران کھڑا ہو گیا ہے۔
دی گارڈین کی رپورٹ کے مطابق روس کے وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف کے ساتھ گروپ تصوير بنوانے پر برطانیہ، آسٹریلیا اور یورپی یونین کے رکن ممالک کی جانب سے بائیکاٹ اور احتجاجی واک آؤٹ کی دھمکی کے بعد امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو (Marco Rubio) کو روایتی "فیملی فوٹو” ( اجتماعی گروپ فوٹو) کی تقریب کو منسوخ کرنا پڑا۔
تقریباً ایک تہائی رکن ممالک نے واضح کر دیا تھا کہ وہ یوکرین پر جاری جارحیت کے باعث روسی نمائندوں کے ساتھ ایک ہی فریم میں کھڑے ہونے کو تیار نہیں ہیں۔
اجلاس کے آغاز پر ہی یورپی اور دیگر اتحادی ممالک نے روسی وزیرِ خارجہ کی موجودگی پر شدید ردِعمل کا اظہار کیا۔
جرمن وزیرِ خارجہ یوہان واڈیفول نے واضح کیا کہ "کسی بھی صورت میں یورپی اتحاد روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف کے ساتھ تصویر نہیں بنوائے گا، کیونکہ روس کے ساتھ کوئی معمول کے تعلقات قائم نہیں ہو سکتے۔”
برطانوی وزیرِ خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے کہا کہ برطانیہ گزشتہ کئی سالوں کی طرح روس کے ساتھ اس قسم کے سفارتی اجتماعات کو نارملائز کرنے کا حصہ نہیں بنے گا۔
آسٹریلوی وزیرِ خارجہ پینی وانگ نے لاوروف کی موجودگی میں روس کے یوکرین پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ روس کی غیر قانونی جنگ نے عالمی منڈیوں اور غذائی تحفظ کو تباه کر کے رکھ دیا ہے۔
یہ سفارتی تصادم اس وقت سامنے آیا ہے جب ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ روسی صدر ولادی میر پوتن اور روس کو عالمی برادری میں دوبارہ ضم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ تاہم امریکی انتظامیہ کے بعض حالیہ فیصلوں پر شدید اختلافات پیدا ہو چکے ہیں۔
یادرہےجی-20 کے بانی رکن اور افریقہ کی واحد نمائندہ ریاست ‘جنوبی افریقہ’ کو اس بار مدعو ہی نہیں کیا گیا۔ جنوبی افریقی ترجمان نے کہا کہ ان کا اجلاس میں شامل نہ ہونا رضاکارانہ نہیں بلکہ جبری ہے۔
یوکرین کو، جسے ماضی کے اجلاسوں میں خصوصی طور پر مدعو کیا جاتا تھا، اس بار اجلاس سے باہر رکھا گیا ہے۔
امریکا کی حمایت سے پولینڈ پہلی بار مہمان کے طور پر شریک ہوا اور جی-20 کا مستقل رکن بننے کی کوشش کر رہا ہے، جس کی روس شدید مخالفت کر رہا ہے۔
پولینڈ کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ رادوسلاو سئکورسکی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ "جب میز کے ارد گرد جاری جنگوں کے فریقین خود موجود ہوں تو کسی مشترکہ نتیجے یا متفقہ نقطہ نظر پر پہنچنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔”
سفارت کاروں کے مطابق ان شدید اختلافات کی وجہ سے ہفتے کے روز اجلاس کے اختتام پر کسی بھی مشترکہ اعلامیے (Joint Communique) کے جاری ہونے کا امکان تقریباً ختم ہو چکا ہے، جس سے فلوریڈا میں ہونے والے آئندہ جی-20 سربراہی اجلاس کے لیے بھی غیر یقینی کی صورتِ حال پیدا ہو گئی ہے۔

